🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

440. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِسَكْرَانَ،" فَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ.
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گزرتے جا رہے ہیں اور سیدنا خالد بن ولید کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں، تھوڑی ہی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے، وہ اسی سے اس شخص کو ماریں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16809]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن بن الأزهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةَ يَوْمِ الْفَتْحِ، وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ" يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِشَارِبٍ، فَأَمَرَهُمْ، فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا، وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِسَوْطٍ، وَحَثَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ".
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر سے مروی ہے کہ میں نے فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گزرتے جارہے ہیں اور سیدنا خالد بن ولید کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں، تھوڑی ہی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے، وہ اسی سے اس شخص کو ماریں چنانچہ کسی نے اسے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مٹی پھینکی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16810]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن، وقد وهم أسامة بن زيد الليثي فى ذكره تصريح الزهري بسماعه من عبدالرحمن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَزْهَرِ يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، جُرِحَ يَوْمَئِذٍ، وَكَانَ عَلَى الْخَيْلِ خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ الْأَزْهَرِ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا هَزَمَ اللَّهُ الْكُفَّارَ، وَرَجَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى رِحَالِهِمْ يَمْشِي فِي الْمُسْلِمِينَ، وَيَقُولُ:" مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ؟"، قَالَ: فَمَشَيْتُ، أَوْ قَالَ: فَسَعَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا مُحْتَلِمٌ، أَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدٍ، حَتَّى حَلَلْنَا عَلَى رَحْلِهِ، فَإِذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مُسْتَنِدٌ إِلَى مُؤْخِرَةِ رَحْلِهِ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى جُرْحِهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: وَنَفَثَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر سیدنا خالد بن ولید زخمی ہو گئے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے پر سوار تھے، کفار کی شکست کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے چلتے جارہے ہیں اور فرماتے جا رہے ہیں کہ خالد بن ولید کے خیمے کا پتہ کون بتائے گا؟ میں اس وقت بالغ لڑکا تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگا کہ خالد بن ولید کے خیمے کا پتہ کون بتائے گا؟ یہاں تک کہ ہم ان کے خیمے تک جا پہنچے، وہاں سیدنا خالد اپنے کجاوے کے پچھلے حصے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر ان کا زخم دیکھا پھر اس پر اپنا لعاب دہن لگا دیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16811]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 0
آخِرُ مُسْنَدِ الْمَكِّيِّينَ وَالْمَدَنِيِّينَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ‏.‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں