صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ:
باب: صبح کے وقت کیا دعا پڑھے۔
حدیث نمبر: 6323
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيِّدُ الاِسْتِغْفَارِ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ. إِذَا قَالَ حِينَ يُمْسِي فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ- أَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ- وَإِذَا قَالَ حِينَ يُصْبِحُ فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ» . مِثْلَهُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، ان سے بشیر بن کعب نے اور ان سے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے عمدہ استغفار یہ ہے «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أبوء لك بنعمتك، وأبوء لك بذنبي، فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، أعوذ بك من شر ما صنعت.» ”اے اللہ! تو میرا پالنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں تیرے عہد پر قائم ہوں اور تیرے وعدہ پر۔ جہاں تک مجھ سے ممکن ہے۔ تیری نعمت کا طالب ہو کر تیری پناہ میں آتا ہوں اور اپنے گناہوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما کیونکہ تیرے سوا گناہ اور کوئی نہیں معاف کرتا۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے برے کاموں سے۔ اگر کسی نے رات ہوتے ہی یہ کہہ لیا اور اسی رات اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنت میں جائے گا۔ یا (فرمایا کہ) وہ اہل جنت میں ہو گا اور اگر یہ دعا صبح کے وقت پڑھی اور اسی دن اس کی وفات ہو گئی تو بھی ایسا ہی ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6323]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے عمدہ استغفار یہ ہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، (امکانی حد تک) میں تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، تیری جو نعمتیں مجھ پر ہیں میں ان کا اقرار کرتا ہوں اور گناہوں کا معترف ہوں، تیرے سوا میرے گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں، میں اپنے گندے کردار (کے شر) سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اگر کسی نے رات ہوتے یہ دعا پڑھی پھر فوت ہو گیا تو وہ جنت میں جائے گا یا وہ اہل جنت میں سے ہے، اور اگر کسی نے یہ دعا صبح کے وقت پڑھی اور اسی دن اس کا انتقال ہو گیا تو بھی ایسا ہی ہو گا۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6323]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6324
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ، قَالَ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو کہتے «باسمك اللهم أموت وأحيا» ”تیرے نام کے ساتھ، اے اللہ! میں مرتا اور تیرے ہی نام سے جیتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا، وإليه النشور» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو لوٹنا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6324]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ”اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ سوتا ہوں اور بیدار ہوتا ہوں۔“ اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6324]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6325
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے منصور بن معمر نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے خرشہ بن الحر نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنی خواب گاہ پر جاتے تو کہتے «اللهم باسمك أموت وأحيا» ”اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے مرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور".» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو جانا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6325]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی خواب گاہ میں جاتے تو فرماتے: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ”اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے سوتا اور بیدار ہوتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف واپس جانا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة