مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
455. حَدِیث اَبِی جمعَةَ حَبِیبِ بنِ سِبَاع
حدیث نمبر: 16975
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَوْفٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا جُمُعَةَ حَبِيبَ بْنِ سِبَاعٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّى الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " هَلْ عَلِمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَلَّيْتَهَا، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَعَادَ الْمَغْرِبَ
سیدنا ابوجمعہ حبیب بن سباع رضی اللہ عنہ ”جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے“ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے سال مغرب کی نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ میں نے عصر کی نماز بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ لوگوں نے بتایا: یا رسول اللہ! آپ نے نمازِ عصر نہیں پڑھی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھی، پھر نمازِ مغرب کو دوبارہ لوٹایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16975]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، صالح بن جبير متابع
حدیث نمبر: 16976
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحٌ بْنُ جُبَيْر ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جُمُعَةَ ، قَالَ: تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَكَ وَجَاهَدْنَا مَعَكَ، قَالَ:" نَعَمْ، قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي"
سیدنا ابوجمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے کھانے میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، ہمارے ساتھ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے: یا رسول اللّٰہ! کیا ہم سے بہتر بھی کوئی ہو گا؟ ہم نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور آپ کی معیت میں جہاد کیا؟ فرمایا: ”ہاں ایک قوم ہو گی جو تمہارے بعد آئے گی اور مجھ پر بن دیکھے ایمان لاۓ گی۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16976]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16977
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، عَنْ ابْنُ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جُمُعَةَ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا جَيِّدًا، تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا، أَسْلَمْنَا مَعَكَ، وَجَاهَدْنَا مَعَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي"
ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوجمعہ رضی اللّٰہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی علیہ السلام سے سنی ہو، انہوں نے فرمایا: اچھا، میں تمہیں ایک عمدہ حدیث سناتا ہوں، ایک مرتبہ صبح کے کھانے میں ہم لوگ نبی علیہ السلام کے ساتھ شریک تھے، ہمارے ساتھ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللّٰہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے، یا رسول اللّٰہ! کیا ہم سے بہتر بھی کوئی ہو گا؟ ہم نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور آپ کی معیت میں جہاد کیا؟ فرمایا: ”ہاں! ایک قوم ہو گی جو تمہارے بعد آئے گی اور مجھ پر بن دیکھے ایمان لائے گی۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16977]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح