مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
468. حَدِیث شَدَّادِ بنِ اَوس
حدیث نمبر: 17131
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ الْعَدَوِيُّ ، أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17131]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6323
حدیث نمبر: 17132
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْحَنْظَلِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، فَيَقْرَأُ سُورَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مَلَكًا يَحْفَظُهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ" .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر آئے اور قرآن کریم کی کوئی بھی سورت پڑھ لے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیج دے گا جو اس کے بیدار ہونے تک خواہ وہ جس وقت بھی بیدار ہو ہر تکلیف دہ چیز سے اُس کی حفاظت کرتا رہے گا۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17132]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن شداد بن أوس، وأبو مسعود مختلط، ورواية يزيد بن هارون عنه بعد أختلاطه
حدیث نمبر: 17133
قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ نَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلَاتِنَا، أَوْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاتِنَا: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات سکھاتے تھے جنہیں ہم نماز میں یا نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے کہ اے اللّٰہ! میں آپ سے دین میں ثابت قدمی، ہدایت پر استقامت، آپ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق، آپ کی بہترین عبادت کا سلیقہ، قلب سلیم اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، نیز آپ جن چیزوں کو جانتے ہیں ان کی خیر مانگتا ہوں اور ان کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اور ان تمام گناہوں سے معافی مانگتا ہوں جو آپ کے علم میں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17133]
حکم دارالسلام: حسن بطرقه ، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 17134
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ عاصم بن مخلد ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا الْأَشْيَبُ ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَضَ بَيْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ" .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نماز عشاء کے بعد شعر و شاعری کی مجلس جائے اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہو گی۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17134]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، قزعة بن سويد ضعيف، وعاصم بن مخلد مجهول
حدیث نمبر: 17135
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَهْرٌ يَعْنِي ابْنَ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ غَنْمٍ ، أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَحْمِلَنَّ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى سَنَنِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ" .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس امت کے بدترین لوگ پہلے اہل کتاب کے طور طریقے مکمل طور پر ضرور اختیار کریں گے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17135]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 17136
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَزَعَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ، فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ، وَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّهُ يُؤَمَّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْمَيِّتِ" .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دیا کرو کیونکہ آنکھیں روح کا پیچھا کرتی ہیں (اس لیے کھلی رہ جاتی ہیں) اور خیر کی بات کہا کرو اس لیے کہ میت کے گھرانے والے جو کچھ کہتے ہیں اس پر (فرشتوں کی طرف سے) آمین کہی جاتی ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17136]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قزعة
حدیث نمبر: 17137
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يَسْمَعُ الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الشِّدَّةُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى قَوْمِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ فِيهِ بَعْدُ، فَلَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو ذَرٍّ، فَيَتَعَلَّقَ أَبُو ذَرٍّ بِالْأَمْرِ الشَّدِيدِ .
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ (کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ وہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسا حکم سنتے جس میں سختی ہوتی وہ اپنی قوم میں واپس جاتے اور ان تک یہ پیغام پہنچا دیتے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں رخصت دے دیتے لیکن سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اسے سننے سے رہ جاتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ اسی سختی والے حکم کے ساتھ چمٹے رہتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17137]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 17138
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي الْبَقِيعِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي، فَقَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی ماہ رمضان کی اٹھارویں رات کو سینگی لگا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے مقام بقیع میں گزرے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، اسے اس حال میں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17138]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، والرجل المبهم الذى حدث عنه أبو قلابة هو أبو الأشعث الصنعاني
حدیث نمبر: 17139
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبِيحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ" .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دو چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر مہربانی کرنے کا حکم لکھ دیا ہے، اس لیے جب تم (میدان جنگ میں) کسی کو قتل کرو تو بھلے طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تمہیں اپنی چھری تیز اور اپنے جانور کو آرام پہنچانا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17139]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1955
حدیث نمبر: 17140
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ ، قَالَ: قَالَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ : قَالَ ابْنُ غَنْمٍ : لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ لَقِينَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ، وَشِمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا نَتَنَاجَى وَذَاكَ قَوْلُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِكُمَا أَوْ كِلَاكُمَا لَتُوشِكَانَّ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مِنْ ثَبَجِ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي مِنْ وَسَطٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ، أَوْ قَرَأَهُ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ، لَا يَحُورُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُورُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ . قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، فَجَلَسَا إِلَيْنَا، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، فَجَلَسَا إِلَيْنَا، فَقَالَ شَدَّادٌ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مِنَ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ" فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ: اللَّهُمَّ غَفْرًا، أَوَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا:" إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؟"، فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا، هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتِهَا، فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ؟ فَقَالَ شَدَّادٌ: أَرَأَيْتُكُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ، أَوْ يَصُومُ لَهُ، أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ، أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ وَاللَّهِ، إِنَّهُ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ، أَوْ صَامَ لَهُ، أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ، لَقَدْ أَشْرَكَ، فَقَالَ شَدَّادٌ: فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ"، فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ: أَفَلَا يَعْمِدُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ فِيهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ، فَيَقْبَلَ مَا خَلَصَ لَهُ، وَيَدَعَ مَا يُشْرَكُ بِهِ؟ فَقَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ: فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي، مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَهُ بِهِ، وَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ" .
ابن غنم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں سیدنا ابوددداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ ”جابیہ“ کی مسجد میں داخل ہوا تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ اور اپنے دائیں ہاتھ سے سیدنا ابودرداء رضی اللہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا، اور خود ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم راستے میں باتیں کرتے جا رہے تھے جن کا علم اللہ ہی کو زیادہ ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر تم دونوں کی یا کسی ایک کی عمر لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک بہترین ”مسلمان“ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن پڑھا ہو، اسے دہرایا ہو اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھا اور اس کی منازل پر اترا ہو، یا اپنے اس بھائی سے قرآن پڑھا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا تھا، اور مزکورہ سارے اعمال کیے ہوں اس طرح حیران ہو گا جیسے مردار گدھے کا سر حیران ہوتا ہے۔ اس گفتگو کے دوران سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ کہنے لگے لوگو! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں تم پر سب سے زیادہ جس چیز سے خطرہ محسوس کرتا ہوں وہ شہوت خفیہ اور شرک ہے، یہ سن کر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ معاف فرمائے! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بیان نہیں فرمایا تھا کہ شیطان جزیرہ عرب میں اپنی عبادت کی امید سے مایوس ہو چکا ہے؟ ”شہوت خفیہ“ تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد دنیا کی خواہشات مثلاً عورتیں اور ان کی خواہشات ہیں، لیکن شداد! یہ کون سا شرک ہے جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہو؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ کسی دوسرے کو دکھانے کے لئے نماز، روزہ، صدقہ کرتا ہے کیا وہ شرک کرتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! بخدا! وہ وہ شرک کرتا ہے، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو دکھاوے کے لئے نماز پڑھتا ہے، وہ شرک کرتا ہے، جو دکھاوے کے لئے روزہ رکھتا ہے وہ شرک کرتا ہے اور جو دکھاوے کے لئے صدقہ کرتا ہے وہ شرک کرتا ہے۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہنے لگے، کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اعمال میں اخلاص کا حصہ قبول کر لیا جائے اور شرک کا حصہ چھوڑ دیا جائے؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ فرماتے ہیں، میں بہترین حصہ دار ہوں، اس شخص کے لئے جو میرے ساتھ شرک کرتا ہے، اور وہ اس طرح کہ جو شخص میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھراتا ہے تو اس کا تھوڑا یا زیادہ سب عمل اس کے شریک کا ہو جاتا ہے اور میں اس سے بیزار ہو جاتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17140]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب