مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
469. حَدِیث العِربَاضِ بنِ سَارِیَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17160
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ"، وَقَالَ:" إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ" .
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «سبحِ» کے لفظ سے شروع ہونے والی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17160]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى بلال، وبقية يدلس ويسوي، ولم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات الإسناد
حدیث نمبر: 17161
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فِي الصُّفَّةِ وَعَلَيْنَا الْحَوْتَكِيَّةُ، فَيَقُولُ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَكُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْكُمْ، وَلَيُفْتَحَنَّ لَكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ" .
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے صفّہ میں ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمانے لگے اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ تمہارے لیے کیا کچھ ذخیرہ کیا گیا ہے، کہ ساری دنیا تمہارے لیے سمیٹ دی جائے گی، اور تمہارے ہاتھوں فارس و روم فتح ہو جائیں گے، تو تم کبھی غمگین نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17161]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، شريح بن عبيد لم يدرك العرباض بن سارية
حدیث نمبر: 17162
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا، وَعَلَى الَّذِي يَلِيهِ وَاحِدَةً" .
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صف والوں کے لیے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لیے ایک مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17162]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17163
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ، وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِ ذَلِكَ، دَعْوَةِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَبِشَارَةِ عِيسَى قَوْمَهُ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ، وَكَذَلِكَ تَرَى أُمَّهَاتُ النَّبِيِّينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ" .
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس وقت بھی اللہ کا بندہ اور خاتم النبیین تھا جب کہ آدم علیہ السلام ابھی گارے میں ہی لتھڑے ہوۓ تھے اور میں تمہیں اس کی ابتداء بتاتا ہوں میں اپنے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا، سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی بشارت، اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات روشن کر دئیے اور تمام انبیاء کی مائیں اسی طرح خواب دیکھتی تھیں۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17163]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: «وكذلك ترى أمهات النبيين صلوات الله عليهم» ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين سعيد بن سويد وبين العرباض، وأبو بكر ضعيف
حدیث نمبر: 17164
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ مَاتُوا مِنَ الطَّاعُونِ، فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَانُنَا قُتِلُوا، وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ: إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا، فَيَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمْ: أَنْ انْظُرُوا إِلَى جِرَاحَاتِ الْمَطَّعُونِينَ، فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَاتِ الشُّهَدَاءِ، فَهُمْ مِنْهُمْ، فَيَنْظُرُونَ إِلَى جِرَاحِ الْمَطَّعُونِينَ، فَإِذَا هي قَدْ أَشْبَهَتْ، فَيُلْحَقُونَ مَعَهُمْ" .
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”طاعون کی وباء سے مرنے والوں کے متعلق پروردگار عالم کے سامنے شہداء اور طبعی موت مرنے والوں کے درمیان جھگڑا ہو گا۔، شہدا کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں، ہماری طرح شہید ہوئے ہیں، اور طبعی موت مرنے والے کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح اپنے بستروں پر شہید ہوئے ہیں، پروردگار فرمائے گا کہ ان کے زخم دیکھو، اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں کی طرح ہیں تو یہ شہداء میں شمار ہو کر ان کے ساتھ ہوں گے۔ جب دیکھا جائے گا تو ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہ ہوں گے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17164]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أبى بلال