مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
472. حَدِیث المِقدَامِ بنِ مَعدِی كَرِبَ الكِندِیِّ اَبِی كَرِیمَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه ...
حدیث نمبر: 17171
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُعْلِمْهُ أَنَّهُ يُحِبُّه" .
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ اسے بتا دے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17171]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17172
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا، كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ، إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ" .
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبر گیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہو گیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17172]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17173
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا، كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ، إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ" .
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبرگیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہو گیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17173]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، زياد بن عبدالله مختلف فيه، لكنه متابع
حدیث نمبر: 17174
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، لَا يُوشِكُ رَجُلٌ يَنْثَنِي شَبْعَانًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا وَلَا لُقَطَةٌ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ، فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُمْ، فَلَهُمْ أَنْ يُعْقِبُوهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُمْ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یاد رکھو! مجھے قرآن کریم اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیا گیا ہے، یاد رکھو! مجھے قرآن کریم اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیا گیا ہے، یاد رکھو! عنقریب ایک آدمی آئے گا جو تخت پر بیٹھ کر یہ کہے گا کہ قرآن کو اپنے اوپر لازم کر لو، صرف اس میں جو چیز تمہیں حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جو حرام ملے، اسے حرام سمجھو، یاد رکھو! تمہارے لیے پالتو گدھوں کا گوشت اور کوئی کچلی والا درندہ حلال نہیں ہے، کسی ذمی کے مال کی گری پڑی چیز بھی حلال نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کے مالک کو اس کی ضرورت نہ ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بنے، انہیں اس کی مہمان نوازی کرنی چاہیے، اگر وہ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو انہیں اجازت ہے کہ وہ اسی طرح ان کی بھی مہمان نوازی کریں۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17174]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17175
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ كَلًّا، فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَرُبَّمَا قَالَ: فَإِلَيْنَا، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَارِثِهِ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَرِثُهُ وَأَعْقِلُ عَنْهُ" ..
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی بوجھ چھوڑ کر فوت ہو جائے، وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ داری میں ہے، اور جو شخص مال و دولت چھوڑ کر مر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہو گا، اور ماموں اس شخص کا وارث ہوتا ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، اور میں اس شخص کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہیں، میں اس کا وارث ہوں اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17175]
حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 17176
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: عَنِ الْمِقْدَامِ مِنْ كِنْدَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری حدیث سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17176]
حکم دارالسلام: حديث جيد
حدیث نمبر: 17177
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”غلہ ماپ کر لیا کرو، تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17177]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17178
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجُودِيِّ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرَهُ حَتَّى يَأْخُذَ بِقِرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو مسلمان کسی قوم کے یہاں مہمان بنے لیکن وہ اپنے حق سے محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد کرنا واجب ہے، تاآنکہ اس رات کی مہمان نوازی کی مد میں میزبانوں کی فصل سے اور مال سے وصول کر لیا جائے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17178]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن المهاجر
حدیث نمبر: 17179
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَتَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جو اپنے آپ کو کھلا دو، وہ صدقہ ہے، جو اپنے بچوں کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے، جو اپنی بیوی کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے اور جو اپنے خادم کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17179]
حکم دارالسلام: حديث حسن، بقية بن وليد- وإن دلس فى هذا الإسناد - متابع
حدیث نمبر: 17180
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ بَعْضِ أَشْيَاخِ الْجُنْدِ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لَطْمِ خُدُودِ الدَّوَابِّ"، وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَكُمْ عِصِيًّا وَسِيَاطًا" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جانوروں کے رخساروں پر طمانچہ مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے لاٹھی اور کوڑے (سہارا) بنایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17180]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتدليس بقية، ولإبهام الرجل الذى روى عنه أرطاة بن المنذر