مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
519. حَدِیث یَعلَى بنِ مرَّةَ الثَّقَفِیِّ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17558
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَنْ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقٍّ، كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إِلَى الْمَحْشَرِ" .
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق زمین کا کوئی حصہ لیتا ہے، اس شخص کو قیامت کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس کی مٹی اٹھا کر میدان حشر میں لے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17558]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17559
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي جُبَيْرَةَ ، عن يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَةً، " فَأَمَرَ وَدْيَتَيْنِ، فَانْضَمَّتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ أَمَرَهُمَا فَرَجَعَتَا إِلَى مَنَابِتِهِمَا . وَجَاءَ بَعِيرٌ فَضَرَبَ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ جَرْجَرَ حَتَّى ابْتَلَّ مَا حَوْلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ الْبَعِيرُ؟ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ يُرِيدُ نَحْرَهُ" فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَوَاهِبُهُ أَنْتَ لِي؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي مَالٌ أَحَبًّ إِلَيَّ مِنْهُ. قَالَ:" اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا" فَقَالَ: لَا جَرَمَ، لَا أُكْرِمُ مَالًا لِي كَرَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ" فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ، فَوُضِعَتْ عَلَى قَبْرِهِ , فَقَالَ:" عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً" .
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت کا ارادہ کیا تو دو درختوں کو حکم دیا، وہ مل گئے پھر حکم دیا تو اپنی اپنی جگہ پر واپس چلے گئے، اسی طرح ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ کہہ رہا ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنا چاہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالک کو بلایا اور فرمایا کیا تم اسے مجھے ہبہ کرتے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ مجھے بہت محبوب ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اس نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اب میں اپنے کسی مال کا اتنا خیال نہیں رکھو گا جتنا اس کا رکھوں گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک قبر پر ہوا جس میں مردے کو عذاب ہو رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر ایک ٹہنی گاڑنے کا حکم دے دیا اور فرمایا ہوسکتا ہے کہ جب تک یہ تر رہے، اس کے عذاب میں تخفیف رہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17559]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الجهالة حبيب بن أبى جبيرة
حدیث نمبر: 17560
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي جُبَيْرَةَ ، عن يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ، فَقَالَ: " إِنَّ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ" ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ، فَوَضَعَهَا عَلَى قَبْرِهِ، فَقَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گذرے تو فرمایا کہ اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے، لیکن وہ کسی بڑی وجہ سے نہی ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹہنی منگوائی اور اسے اس قبر پر رکھ دیا اور فرمایا جب تک یہ تر رہے گی، ممکن ہے کہ اس کے عذاب میں اس وقت تک تخفیف رہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17560]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حبيب بن أبى جبيرة
حدیث نمبر: 17561
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عن يَعْلَى الْعَامِرِيِّ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ، قَالَ: فَاسْتَمْثَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَّانُ: قَالَ وُهَيْبٌ: فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ، وَحُسَيْنٌ مَعَ غِلْمَانٍ يَلْعَبُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَهُ. قَالَ: فَطَفِقَ الصَّبِيُّ يَفِرُ هَاهُنَا مَرَّةً، وَهَاهُنَا مَرَّةً، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ حَتَّى أَخَذَهُ. قَالَ: فَوَضَعَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ قَفَاهُ، وَالْأُخْرَى تَحْتَ ذَقْنِهِ، فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ، فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ :" حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعوت میں کھانے پر تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان لوگوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پکڑنے کے لئے آگے بڑھے تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کبھی ادھر بھاگ جاتے اور کبھی ادھر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہنسانے لگے، یہاں تک کہ انہیں پکڑ لیا، پھر ایک ہاتھ ان کی گدی کے نیچے رکھا اور دوسرا ٹھوڑی کے نیچے اور ان کے منہ پر اپنا مبارک منہ رکھا اور فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے حسین ایک پورا گروہ اور قبیلہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17561]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة سعيد بن أبى راشد
حدیث نمبر: 17562
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عن يَعْلَى لْعَامِرِيِّ ، أَنَّهُ جَاءَ حَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ، وَقَالَ: " إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِوَجٍّ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سینے سے لگا لیا اور فرمایا اولاد بخل اور بزدلی کا سبب بن جاتی ہے اور وہ آخری پکڑ جو رحمان نے کفار کی فرمائی، وہ مقام وج میں تھی۔ فائدہ: وج طائف کے ایک علاقے کا نام تھا جس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی غزوہ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17562]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة سعيد بن أبى راشد
حدیث نمبر: 17563
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا قَدْ أَصَابَهُ لَمَمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ، أَنَا رَسُولُ اللَّهِ" قَالَ: فَبَرَأَ، فَأَهْدَتْ لَهُ كَبْشَيْنِ وَشَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا يَعْلَى، خُذْ الْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، وَخُذْ أَحَدَ الْكَبْشَيْنِ، وَرُدَّ عَلَيْهَا الْآخَرَ" . وقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَقُلْ يَا يَعْلَى.
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک بچہ لے کر آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا: بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا! دور ہو، وہ بچہ اسی وقت ٹھیک ہوگیا، اس کی ماں نے دومینڈھے، کچھ پنیر اور کچھ گھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے یعلی! پنیر، گھی اور ایک مینڈھا لے لو اور دوسرا واپس کردو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17563]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المنهال بن عمرو لم يسمع من يعلى بن مرة
حدیث نمبر: 17564
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ لِيَ: " ائْتِ تِلْكَ الْأَشَاءَتَيْنِ، فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا" فَأَتَيْتُهُمَا، فَقُلْتُ لَهُمَا ذَلِكَ، فَوَثَبَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَاجْتَمَعَتَا، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَتَرَ بِهِمَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ وَثَبَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَى مَكَانِهَا .
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحراء کی طرف نکلا، ایک مقام پر پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے اکٹھے ہوجاؤ، چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور کہا تو وہ دونوں اکٹھے ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت فرمائی، پھر واپس آکر فرمایا ان سے جا کر کہہ دو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی اپنی جگہ چلے جاؤ، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17564]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17565
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ إِذْ مَرَرْنَا بِبَعِيرٍ يُسْنَى عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ وَوَضَعَ جِرَانَهُ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟" فَجَاءَ، فَقَالَ:" بِعْنِيهِ" فَقَالَ: لَا، بَلْ أَهَبُهُ لَكَ. فَقَالَ:" لَا، بِعْنِيهِ" قَالَ: لَا، بَلْ نَهَبُهُ لَكَ، وَإِنَّهُ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهُ. قَالَ:" أَمَا إِذْ ذَكَرْتَ هَذَا مِنْ أَمْرِهِ، فَإِنَّهُ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ، وَقِلَّةَ الْعَلَفِ، فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ذَكَرْتُ لَهُ. فَقَالَ:" هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا عَزَّ وَجَلَّ فِي أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهَا". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهِ جِنَّةٌ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْخَرِهِ، فَقَالَ" اخْرُجْ، إِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ سَفَرِنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءِ، فَأَتَتْهُ الْمَرْأَةُ بِجُزُرٍ وَلَبَنٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرُدَّ الْجُزُرَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَشَرِبَوا مِنَ اللَّبَنِ، فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا رَأَيْنَا مِنْهُ رَيْبًا بَعْدَكَ .
حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ایسے معجزے دیکھے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے اور نہ بعد میں کوئی دیکھ سکے گا، ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، یہ اونٹ کس کا ہے؟ اس کا معاملہ عجیب محسوس ہوتا ہے، چنانچہ میں اس کے مالک کی تلاش میں نکلا، مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک انصاری آدمی ہے، میں نے اسے بلایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ واللہ مجھے اور تو کچھ معلوم نہیں، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم اس پر کام کرتے تھے اور اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، لیکن اب یہ پانی لانے سے عاجز آگیا تھا، اس لئے ہم نے آج رات یہ مشورہ کیا کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کردیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کرو، یہ ہدیۃ مجھے دے دو، یا قیمۃ دے دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کی علامت لگائی اور اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔ پھر ہم روانہ ہوئے ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کرلیا، تھوڑی دیر بعد واپس چلا گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے اس کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس درخت نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ جو اللہ نے اسے دے دی۔ دوران سفر ہمارا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں، دن میں نجانے کتنی مرتبہ اس پر اثر ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مجھے پکڑا دو، اس نے پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنے اور کجاوے کے درمیان بٹھا لیا، پھر اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا! دور ہو، یہ کہہ کر وہ بچہ اس کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا جب ہم اس جگہ سے واپس گذریں تو ہمارے پاس اسے دوبارہ لانا اور بتانا کہ اب اس کی حالت کیسے رہی؟ پھر ہم آگے چل پڑے، واپسی پر جب ہم دوبارہ وہاں پہنچے تو ہمیں اس جگہ پر اس عورت کے ساتھ تین بکریاں بھی نظر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارا بچہ کیسا رہا؟ اس نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تک ہمیں اس کی بیماری محسوس نہیں ہوئی ہے (اور یہ صحیح ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17565]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن حفص، وعطاء مختلط
حدیث نمبر: 17566
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ ، عن أَبِيهَا يَعْلَى ، قَالَ: يَزِيدُ فِيمَا يَرْوِي يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ الْتَقَطَ لُقَطَةً يَسِيرَةً، دِرْهَمًا أَوْ حَبْلًا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ، فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ سِتَّةَ أَيَّامٍ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کوئی گری پڑی چیز جو مقدار میں تھوڑی ہو مثلا درہم یا رسی وغیرہ پائے تو تین تک اس کا اعلان کرے اس سے مزید اضافہ کرنا چاہے تو چھ دن تک اعلان کرے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17566]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عمرو بن عبد الله ، وجدته حكمة لا تعرف
حدیث نمبر: 17567
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عن يَعْلَى ، قَالَ: مَا أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا دُونَ مَا رَأَيْتُ، فَذَكَرَ أَمْرَ الصَّبِيِّ، وَالنَّخْلَتَيْنِ، وَأَمْرَ الْبَعِيرِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مَا لِبَعِيرِكَ يَشْكُوكَ، زَعَمَ أَنَّكَ سَنَأْتَهُ، حَتَّى إِذَا كَبُرَ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهُ" قَالَ: صَدَقْتَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَفْعَلُ .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے معجزات دیکھے ہوں جو میں نے دیکھے ہیں، پھر انہوں نے بچے درختوں اور اونٹ کے واقعات بیان کئے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے تمہارا اونٹ تمہاری شکایت کر رہا ہے کہ تم پہلے اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، جب یہ بوڑھا ہوگیا تو اب تم اسے ذبح کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ آپ صحیح فرما رہے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے، میرا یہی ارادہ تھا لیکن اب میں ایسا نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17567]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، المنهال بن عمرو لم يسمع من يعلى بن مرة