مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
522. حَدِیث سرَاقَةَ بنِ مَالِكِ بنِ جعشم رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17581
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي، هَلْ مِنْ أَجْرٍ أَسْقِيهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بھٹکے ہوئے اونٹوں کا مسئلہ پوچھا جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17581]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17582
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عن سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فِي الْوَادِي، فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وادی میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا یاد رکھو! قیامت تک کے لئے عمرہ، حج میں داخل ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17582]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الإسناد منقطع، طاؤوس لم يسمعه من سراقة
حدیث نمبر: 17583
حَدَّثَنِي مَكِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ الزَّرَّادَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ صَاحِبَ عَلِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُرَاقَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". قَالَ: وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت تک کے لئے عمرہ، حج میں داخل ہوگیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں حج قرآن فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17583]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17584
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عن عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي، قَدْ لُطْتُهَا لِإِبِلِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي شَأْنِ مَا أَسْقِيهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بھٹکے ہوئے اونٹوں کا مسئلہ پوچھا جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17584]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17585
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا سُرَاقَةُ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" أَمَّا أَهْلُ النَّارِ، فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ، وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سراقہ! کیا میں تمہیں اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے نہ بتاؤں؟ عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمی تو ہر وہ شخص ہوگا جو سخت دل، تند خو اور متکبر ہو اور جنتی وہ لوگ ہوں گے جو کمزور اور مغلوب ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17585]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الإسناد منقطع، على بن رباح لم يسمعه من سراقة
حدیث نمبر: 17586
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ، يَقُولُ: إِنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا سُرَاقَةُ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ" أَوْ" مِنْ أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" ابْنَتُكَ مَرْدُودَةٌ إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرَكَ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا سراقہ! کیا میں تمہیں سب سے عظیم صدقہ نہ بتاؤں؟ عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری وہ بیٹی جو اپنے شوہر کی وفات یا طلاق کی وجہ سے تمہارے پاس واپس جائے اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17586]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير أن على بن رباح لم يسمعه من سراقة
حدیث نمبر: 17587
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ ، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، قَالَ: فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أَذْكُرُ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ. فَقَالَ: اذْكُرْهُ. قَالَ: وَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الضَّالَّةُ تَغْشَى حِيَاضِي وَقَدْ مَلَأْتُهَا مَاءً لِإِبِلِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي أَنْ أَسْقِيَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ، فِي سَقْيِ كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حاضر خدمت ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پوچھنا شروع کردیئے، حتی کہ میرے پاس سوالات ختم ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اور یاد کرلو، ان سوالات میں سے ایک سوال میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ! وہ بھٹکے ہوئے اونٹ جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ جبکہ میں نے وہ پانی اپنے اونٹوں کے لئے بھرا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17587]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مرسل، عبدالرحمن بن مالك لم يشهد القصة ، فهو تابعي
حدیث نمبر: 17588
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عن سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ الضَّالَّةَ تَرِدُ عَلَى حَوْضِ إِبِلِي، هَلْ لِي أَجْرٌ أَنْ أَسْقِيَهَا؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، فِي الْكَبِدِ الْحَرَّى أَجْرٌ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حاضر خدمت ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پوچھنا شروع کردیئے، حتی کہ میرے پاس سوالات ختم ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اور یاد کرلو، ان سوالات میں سے ایک سوال میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھٹکے ہوئے اونٹ جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ جبکہ میں نے وہ پانی اپنے اونٹوں کے لئے بھرا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17588]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17589
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عن طَاوُسٍ ، عن سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ، لعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ لِلْأَبَدِ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے! کیا سفر حج میں عمرہ کا یہ حکم صرف ہمارے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17589]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الإسناد منقطع، طاؤوس لم يسمعه من سراقة
حدیث نمبر: 17590
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عن سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ الْكِنَانِيِّ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، كَذَا فِي الْحَدِيثِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا , أَوْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" لِلْأَبَدِ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! یہ بتائیے! کیا سفر حج میں عمرہ کا یہ حکم صرف ہمارے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17590]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الإسناد منقطع، طاؤوس لم يسمعه من سراقة