صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ الدُّعَاءِ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةِ:
باب: قبلہ کی طرف منہ کئے بغیر دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 6342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَمُطِرْنَا حَتَّى مَا كَادَ الرَّجُلُ يَصِلُ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ تَزَلْ تُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَصْرِفَهُ عَنَّا فَقَدْ غَرِقْنَا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ، وَلَا يُمْطِرُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ".
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ ہمارے لیے بارش برسائے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی) اور آسمان پر بادل چھا گیا اور بارش برسنے لگی، یہ حال ہو گیا کہ ہمارے لیے گھر تک پہنچنا مشکل تھا۔ یہ بارش اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی صحابی یا کوئی دوسرے صحابی اس دوسرے جمعہ کو کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اب بارش بند کر دے ہم تو ڈوب گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بستیوں کو سیراب کر اور ہم پر بارش بند کر دے۔ چنانچہ بادل ٹکڑے ہو کر مدینہ کے چاروں طرف بستیوں میں چلا گیا اور مدینہ والوں پر بارش رک گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6342]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، اس دوران میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو آسمان پر بادل آگئے اور بارش برسنے لگی، بارش اس قدر ہوئی کہ آدمی اپنے گھر نہیں پہنچ سکتا تھا، یہ بارش آئندہ جمعہ تک ہوتی رہی، پھر وہی آدمی یا کوئی دوسرا کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں بارش بند کر دے، ہم تو ڈوبنے لگے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا ہم پر اسے بند کر دے۔“ چنانچہ بادل ٹکڑے ٹکڑے مدینہ طیبہ کے ارد گرد پھیل گئے اور اہل مدینہ پر بارش رک گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة