🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

637. حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18224
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ هَاشِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، " فَأَخْبَرَنَا بِمَا يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَعَاهُ مَنْ وَعَاهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنی امت میں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی خبردے دی جس نے اس خطبے کو یاد رکھا سو یاد رکھا اور جس نے بھلادیا سو بھلا دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18224]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن إبراهيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18225
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَأَتَيْتُ خِبَاءً، فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ مَاءٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ، وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ، وَلَا أَعَزَّ، وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ، وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهُ فَهِيَ طَهُورُهَا" . قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: أَيْ وَاللَّهِ، لَقَدْ دَبَغْتُهَا. فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا، وَعَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ، وَعَلَيْهِ خُفَّانِ وَخِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ. قَالَ: مِنْ ضِيقِ كُمَّيْهَا. قَالَ: فَتَوَضَّأَ، فَمَسَحَ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ.
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پانی منگوایا میں ایک خیمے میں پہنچا وہاں ایک دیہاتی عورت تھی میں نے اس سے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں اور وضو کے لئے پانی منگوا رہے ہیں تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ وہ کہنے لگی میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، واللہ آسمان کے سائے تلے اور روئے زمین پر میرے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب اور معزز کوئی شخص نہیں یہ مشکیزہ مردار کی کھال کا ہے میں نہیں چاہتی کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپاک کروں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا اور یہ ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس جاؤ اگر اس نے کھال کو دباغت دے دی تھی تودباغت ہی اس کی پاکیزگی ہے چناچہ میں اس عورت کے پاس دوبارہ گیا اور اس یہ مسئلہ ذکر کردیا۔ اس نے کہا بخدا! میں اسے دباغت تو دی تھی چناچہ میں اس میں سے پانی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا موزے اور عمامہ بھی پہن رکھا تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبے کے نیچے سے ہاتھ نکالے کیونکہ اس کی آستینیں تنگ تھیں پھر وضو کیا اور عمامے اور موزوں پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18225]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، معان بن رفاعة لين الحديث ، وعلي بن زيد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18226
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ:" ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ، فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ عَنْهُمَا كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور انہیں دھو کر موزوں پر مسح کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18226]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4421، م: 274
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18227
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي أَوْ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى فَرْوَةٍ مَدْبُوغَةٍ" .
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دباغت دی ہوئی پوستین پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18227]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يونس بن الحارث، وقد اضطرب فيه، ولجهالة والد ابي عون
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18228
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ :" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظُهُورِ الْخُفَّيْنِ" . حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ ، والْهَاشِمِيُّ أَيْضًا.
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18228]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18229
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَتَبَرَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبِعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، " فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے چلے گئے میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر پیچھے چلا گیا اور پانی ڈالتا رہا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر ہی مسح کرلیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18229]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18230
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَقِيلَ وَقَالَ، وَمَنْعَ وَهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرنا حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18230]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18231
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحَ الْقَوْمُ، قَالَ: فَأُرَاهُ فَسَبَّحَ وَمَضَى، ثُمَّ " سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ، وقَالَ: هَكَذَا فَعَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . إِنَّمَا شَكَّ فِي سَبَّحَ.
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18231]

حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه ، وهذا اسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18232
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، أخبرنا عَامِرٍ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: اكْتُبْ إِلَيَّ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَانِي الْمُغِيرَةُ . قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" . وَسَمِعْتُهُ " يَنْهَى عَنْ: قِيلَ وَقَالَ، وَعَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَعَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ" .
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18232]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، على ابن عاصم ضعيف، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18233
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدَ ربه ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ" مِثْلَ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَأْدَ الْبَنَاتِ.
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18233]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، على بن عاصم ضعيف، وسمع من الجريري بعد الاختلاط، لكنه توبع، وعبد ربه توبع كذلك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں