مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
637. حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18214
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَعْمَةُ بْنُ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ، فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ" يَعْنِي يُقَصِّبُهَا.
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب بیچ سکتا ہے تو پھر اسے چاہئے کہ خنزیر کے بھی ٹکڑے کرکے بیچنا شروع کردے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18214]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال عمر بن بيان
حدیث نمبر: 18215
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ سَهْلٍ الثَّقَفِيِّ، فَقَالَ:" يَا سُفْيَانُ، لَا تُسْبِلْ إِزَارَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل! اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18215]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وحصين بن عقبة مجهول
حدیث نمبر: 18216
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحْنَا بِهِ، فَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ الصَّلَاةَ، " سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ" ، وَقَالَ مَرَّةً: فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ، فَأَشَارَ أَنْ قُومُوا.
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18216]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، روي يزيد عن المسعودي بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَقَّارُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثًا، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ لَمْ أُمْعِنْ حِفْظَهُ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَقِيتُ حَسَّانَ بْنَ أَبِي وَجْزَةَ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ حَسَّانُ : حَدَّثَنَاهُ عَقَّارٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنْ اكْتَوَى وَاسْتَرْقَى" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18217]
حکم دارالسلام: حديث حسن من أجل عقار بن المغيرة
حدیث نمبر: 18218
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: كَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ، فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ یہاں تک کہ یہ ختم ہوجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18218]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1043، م: 915
حدیث نمبر: 18219
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَرْحَانَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَقَامَ، وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهُ، فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ:" وَرَاءَكَ"، فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ، وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَيْرٌ، وَلَكِنْ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ، وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُ، فَعَلَ ذَلِكَ النَّاسُ بَعْدِي" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا اس کے بعد نماز کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے وضو فرما رکھا تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھڑکتے ہوئے فرمایا پیچھے ہٹو بخدا! مغیرہ کو آپ کا جھڑکنا بہت پریشان کر رہا ہے اسے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے متعلق آپ کے دل میں کوئی بوجھ تو نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے دل میں تو اس کے متعلق سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں البتہ یہ میرے پاس وضو کے لئے پانی لائے تھے جبکہ میں نے تو صرف کھانا کھایا تھا اگر میں وضو کرلیتا تو میرے بعد لوگ بھی اسی طرح کرنا شروع کردیتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18219]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18220
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَسِيتَ؟ قَالَ:" بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے واپس آکر وضو کیا اور موزوں پر ہی مسح کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! شاید آپ بھول گئے کہ آپ نے موزے نہیں اتارے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قطعاً نہیں تم بھول گئے ہو مجھے تو میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18220]
حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة، تفرد بها بكير، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 18221
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اكْتَوَى أَوْ اسْتَرْقَى، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18221]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18222
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ، فَقَامَ، فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ"، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَعْنِي قُومُوا، فَقُمْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا ذَكَرَ أَحَدُكُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا، فَلْيَجْلِسْ، وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا، فَلَا يَجْلِسْ" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہریا عصر کی نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بھی کھڑے ہونے کے لئے فرمایا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا اگر تمہیں مکمل کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جایا کرو اور اگر مکمل کھڑے ہوجاؤ تو پھر نہ بیٹھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18222]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف
حدیث نمبر: 18223
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا، فَلْيَجْلِسْ، وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا، فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے کھڑا ہوجائے تو اگر وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا تو بیٹھ جائے اور اگر مکمل کھڑا ہوچکا ہو تو پھر نہ بیٹھے اور بعد میں سجدہ سہو کرلے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18223]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف