مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
646. حَدِيثُ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18288
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ ، قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ فِي بَنِي سَلِمَةَ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَكَانَ إِذَا دُعِيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِاسْمٍ مِنْ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا، قَالَ: " فَنَزَلَتْ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11" .
ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ایک یا دو لقب نہ ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کو اس کے لقب سے پکار کر بلاتے تو ہم عرض کرتے یا رسول اللہ! یہ نام اس کو ناپسند ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ایک دوسرے کو مختلف القاب سے طعنہ مت دیا کرو۔ " [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18288]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن صحت صحبة أبى جبيرة بن الضحاك ، وإلا فمرسل