مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
663. حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 18407
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا، وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا، وَمِنْ الزَّبِيبِ خَمْرًا، وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرًا، وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرًا، وَأَنَا أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ شراب کشمش کی بھی بنتی ہے کھجور کی بھی، گندم کی بھی، جو کی بھی اور شہد کی بھی ہوتی ہے اور ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18407]
الحكم على الحديث:
صحيح من قول عمر موقوفاً عدا قوله: وأنا أنهي عن كل مسكر فصحيح مرفوعاً بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على الشعبي
حدیث نمبر: 18408
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَبَهْزٌ الْمَعْنَى، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: أَظُنُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَافَرَ رَجُلٌ بِأَرْضٍ تَنُوفَةٍ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي فَلَاةً، فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ، وَعَلَيْهَا سِقَاؤُهُ وَطَعَامُهُ، فَاسْتَيْقَظَ، فَلَمْ يَرَهَا، فَعَلَا شَرَفًا، فَلَمْ يَرَهَا، ثُمَّ عَلَا شَرَفًا، فَلَمْ يَرَهَا، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجُرُّ خِطَامَهَا، فَمَا هُوَ بِأَشَدَّ بِهَا فَرَحًا مِنَ اللَّهِ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ" . قَالَ بَهْزٌ:" عَبْدِهِ إِذَا تَابَ إِلَيْهِ". قَالَ بَهْزٌ: قَالَ حَمَّادٌ: أَظُنُّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہوا راستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تو اچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18408]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فى رفعه ووقفه، وموقوفه أصح
حدیث نمبر: 18409
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَقَرَأَ بِهِمَا" . وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: وَرُبَّمَا اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمٍ.
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عیدجمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18409]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 878
حدیث نمبر: 18410
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ يقول: نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُشْهِدَهُ، فَقَالَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18410]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، مجالد ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18411
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُدَّهِنِ وَالْوَاقِعِ فِي حُدُودِ اللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: الْقَائِمِ فِي حُدُودِ اللَّهِ مَثَلُ ثَلَاثَةٍ رَكِبُوا فِي سَفِينَةٍ، فَصَارَ لِأَحَدِهِمْ أَسْفَلُهَا وَأَوْعَرُهَا وَشَرُّهَا، فَكَانَ يَخْتَلِفُ، وَثَقُلَ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَرَّ، فَقَالَ: أَخْرِقُ خَرْقًا يَكُونُ أَهْوَنَ عَلَيَّ، وَلَا يَكُونُ مُخْتَلَفِي عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا يَخْرِقُ فِي نَصِيبِهِ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ، نَجَا وَنَجَوْا، وَإِنْ تَرَكُوهُ هَلَكَ وَهَلَكُوا" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18411]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف من أجل مجالد، وقد سلف بأسانيد صحيحة
حدیث نمبر: 18412
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حدثنا الشَّعْبِيُّ ، سَمِعَهُ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ظَنَنْتُ أَنْ لَا أَسْمَعَ أَحَدًا عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً، إِذَا سَلِمَتْ وَصَحَّتْ، سَلِمَ سَائِرُ الْجَسَدِ وَصَحَّ، وَإِذَا سَقِمَتْ سَقِمَ سَائِرُ الْجَسَدِ وَفَسَدَ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اگر تندرست اور صحیح ہو تو ساراجسم تندرست اور صحیح سالم رہتا ہے اور اگر وہ بیمار ہوجائے تو سارا جسم بیمار ہوجاتا ہے، یاد رکھو! وہ دل ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18412]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 18413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ يُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18413]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6561، م: 213
حدیث نمبر: 18414
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ، فَأَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ، فَخَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَلَا يُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ" . قَالَ عَفَّانُ: فَلَا تُقْرَبَنَّ.
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دوہزار سال قبل کتاب لکھ دی تھی اور اس میں سے دو آیتیں نازل کرکے ان سے سورت بقرہ کا اختتام فرمادیا لہٰذا جس گھر میں تین راتوں تک سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھی جائیں گی شیطان اس گھر کے قریب نہیں آسکے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18414]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 18415
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عشاء کا وقت میں تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز آغاز مہینہ کی تہائی رات کے سقوط قمر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18415]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18416
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، إِذَا أَلِمَ بَعْضُهُ تَدَاعَى سَائِرُهُ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18416]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6011، م: 2586، سماك بن حرب توبع