مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
663. حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 18427
حَدَّثَنَا بَهْز ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ، كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ، حَتَّى ظَنَّ أَنَّا قَدْ أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ، وَفَهِمْنَاهُ، أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ، فَإِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ، فَقَالَ: " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو اس طرح درست کرواتے تھے جیسے ہماری صفوں سے تیروں کو سیدھا کررہے ہوں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تکبیر کہنے کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ باہر نکلا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی صفوں کو درست (سیدھا) رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18427]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 717، م: 436
حدیث نمبر: 18428
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ" .
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جن کی قسم گواہی پر اور گواہی قسم پر سبقت لے جائے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18428]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18429
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ . ح وَزَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ . ح وَفِطْرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ بَشِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَنْحَلَ النُّعْمَانَ نُحْلًا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ سِوَاهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟" قَالَ: لَا. قَالَ: فِطْرٌ فَقَالَ: لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا، أَيْ: " سَوِّ بَيْنَهُمْ" وَقَالَ زَكَرِيَّا وَإِسْمَاعِيلُ:" لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدنے انہیں کوئی تحفہ دیا میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہارے اور بیٹے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گواہ بننے سے انکار کردیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18429]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1623، وله ثلاثة أسانيد، الأول والثالث منها صحيحان، والثاني ضعيف، فزكريا يدلس عن الشعبي، وقد عنعن
حدیث نمبر: 18430
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْجَدَلِيِّ . قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ أَبِي الْقَاسِمِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثَلَاثًا، وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ" . قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ كَعْبَهُ بِكَعْبِ صَاحِبِهِ، وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَتِهِ، وَمَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِهِ.
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنارخ انور لوگوں کی طرف کرکے تین مرتبہ فرمایا صفیں درست کرلو بخدا! یا تو تم صفیں سیدھی رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا کردے گا حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں دیکھتا تھا کہ ایک آدمی اپنے ٹخنے اپنے ساتھی کے ٹخنے سے اپنا گھٹنا اپنے ساتھی کے گھٹنے سے اور اپنا کندھا اس کے کندھے سے ملا کر کھڑا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18430]
الحكم على الحديث:
صحيح، إلا أن قوله: وركبته بركبته ، فهذا حسن
حدیث نمبر: 18431
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، ومِسْعَرٍ ، قَالَ. وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ ب ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و َهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18431]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 878
حدیث نمبر: 18432
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ذَرٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْعٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ"، ثُمَّ قَرَأَ: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا " [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18432]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18433
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ، إِذَا اشْتَكَى رَأْسُهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18433]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6011، م: 2586
حدیث نمبر: 18434
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ خَيْثَمَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ، إِذَا اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ، وَإِنْ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور اگر آنکھ میں تکلیف ہو تب بھی سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے،۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18434]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6011، م: 2586
حدیث نمبر: 18435
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِير ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ: " اسْتَوُوا، وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں نماز پڑھانے کے لئے آئے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برابر ہوجاؤ، آگے پیچھے مت ہوا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18435]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18436
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ:" إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ"، ثُمَّ قَرَأَ: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60" ..
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا " گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18436]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح