مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
707. حَدِيثُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ وَمَرَوَانَ بْنِ الْحَكَمِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 18917
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أخْبَرَهُ. قَالَ: وحدََّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي" .
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے چند دن بعد ہی بچے کی ولادت ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حلال ہوچکی ہو لہٰذا نکاح کرسکتی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18917]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5320
حدیث نمبر: 18918
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ،" أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَمْكُثْ إِلَّا لَيَالِيَ حَتَّى وَضَعَتْ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا خُطِبَتْ، فَاسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النِّكَاحِ، فَأَذِنَ لَهَا أَنْ تَنْكِحَ، فَنَكَحَتْ" ..
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے چند دن بعد ہی بچے کی ولادت ہوگئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت مانگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے دوسرا نکاح کرلیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18918]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5320
حدیث نمبر: 18919
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5320، وهذا إسناد لم يقمه أبو معاوية، وهو فى غير حديث الأعمش مضطرب
حدیث نمبر: 18920
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَمَرْوَانَ ، قَالاَ: " قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ، وَأَشْعَرَهُ، بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِالْعُمْرَةِ، حَلَقَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَتِهِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ، وَنَحَرَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ" .
حضرت مسور رضی اللہ عنہ اور مروان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچ کر ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھا اس کا شعار کیا اور وہاں سے احرام باندھ لیا حدیبیہ میں حلق کرلیا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا حکم دیا اور حلق کرنے سے پہلے ہی قربانی کرلی اور صحابہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا حکم دیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18920]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1811
حدیث نمبر: 18921
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ؛ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ: وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ، أَوَ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَوَقَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ: هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ: إِلَّا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهَجْرِ: " إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے کوئی بیع کی یا کسی کو کوئی بخشش دی تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (جو ان کے بھانجے تھے) نے کہا کہ بخدا! عائشہ رضی اللہ عنہ کو رکنا پڑے گا ورنہ میں انہیں اب کچھ نہیں دوں گا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا کیا اس نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے بتایاجی ہاں! فرمایا میں اللہ کے نام پر منت مانتی ہوں کہ آج کے بعد ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی پھر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو زہرہ سے تھا " سے سفارش کروائی۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لئے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔ طفیل بن حارث " جو کہ ازدشنوہ کے ایک فرد تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ماں شریک بھائی بھائی تھے " سے مروی ہے۔۔۔۔۔ پھر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو زہرہ سے تھا " سے سفارش کروائی۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لئے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18921]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18922
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَكَانَ أَخًا لِعَائِشَةَ لِأُمِّهَا أُمِّ رُومَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. فَاسْتَعَانَ عَلَيْهَا بِالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، فَاسْتَأْذَنَا عَلَيْهَا، فَأَذِنَتْ لَهُمَا، فَكَلَّمَاهَا، وَنَاشَدَاهَا اللَّهَ وَالْقَرَابَةَ وَقَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَاَ يَحِلُّ لَا ِمْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاَثٍ" ..
حکم دارالسلام: حديث صحيح، الوليد بن مسلم يدلس ويسوي، ولم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات الاسناد، وقد خالف فقال: عن الطفيل بن الحارث، والصواب: عوف بن الحارث بن الطفيل. وقال: وكان أخاً لعائشة لأمها أم رومان، والصواب: أنه ابن أخيها
حدیث نمبر: 18923
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ طُّفَيْلِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُمِّهَا أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6073، اسم عوف بن مالك بن طفيل خطأ، والصواب: عوف بن الحارث بن الطفيل
حدیث نمبر: 18924
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، يَزِيدُ أحدهما على صاحبه:" خرج رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِئَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَلَّدَ الْهَدْيَ، وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: بالعُمْرَةٍ وَلَمْ يُسَمِّ الْمِسْوَرَ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا..." .
حضرت مسور رضی اللہ عنہ اور مروان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے اوپر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نکلے ذوالحلیفہ پہنچ کر ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھا اس کا شعار کیا اور وہاں سے احرام باندھ لیا اور اپنے آگے ایک جاسوس بھیج کر خود بھی روانہ ہوگئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18924]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1694
حدیث نمبر: 18925
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بِالْمَوْسِمِ يَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ، وَالْبَعِيرُ أَفْضَلُ مِنَ الْمِجَنِّ" .
حضرت مروان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال چوری کرنے پر ہاتھ کاٹ دیا تھا تو اونٹ تو ڈھال سے افضل ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18925]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد مرسل، مروان لم تثبت له صحبة
حدیث نمبر: 18926
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلاَ آذَنُ لَهُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" لاَ آذَنُ" ثُمَّ قَالَ: " لاَ آذَنُ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي، يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا" .
حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبریہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنوہشام بن مغیرہ مجھ سے اس بات کی اجازت مانگ رہے ہیں کہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کردیں میں اس کی اجازت کبھی نہیں دوں گا تین مرتبہ فرمایا میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے جو چیز اسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے بھی پریشان کرتی ہے اور جو اسے تکلیف پہنچاتی ہے وہ مجھے بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18926]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5320، م: 2449