صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَابُ الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَفِتْنَةِ النَّارِ:
باب: ناکارہ عمر، دنیا کی آزمائش اور دوزخ کی آزمائش سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
حدیث نمبر: 6374
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَعَوَّذُوا بِكَلِمَاتٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو حسین بن علی جعفی نے خبر دی، انہیں زائدہ بن قدامہ نے، انہیں عبدالملک بن عمیر نے، انہیں مصعب بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ مانگو جن کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك من البخل، وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بك من فتنة الدنيا، وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے، تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے، اس سے کہ ناکارہ عمر کو پہنچوں، تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6374]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ان کلمات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو جن کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پناہ طلب کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں کنجوسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں ناکارہ عمر کی طرف لوٹائے جانے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں دنیا کی آزمائش اور عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔“” [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6374]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6375
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْمَغْرَمِ، وَالْمَأْثَمِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہا «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم، اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنة النار وعذاب القبر، وشر فتنة الغنى، وشر فتنة الفقر، ومن شر فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، ناکارہ عمر سے، بڑھاپے سے، قرض سے اور گناہ سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے، دوزخ کی آزمائش سے، قبر کے عذاب سے، مالداری کی بری آزمائش سے، محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا فاصلہ مشرق و مغرب میں ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6375]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ» ”اے اللہ! میں کاہلی، بڑھاپے، قرض اور گناہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں دوزخ کے عذاب، دوزخ کی آزمائش، قبر کی آزمائش اور عذاب قبر، نیز فتنۂ ثروت کے شر، فتنۂ فقر کے شر اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے۔ میرے دل کو گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کر دیا جاتا ہے۔ میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا مشرق و مغرب میں ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6375]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة