مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
802. حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 19925
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَوْنٍ وَهُوَ الْعَقِيلِيُّ , عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ عَامَّةُ دُعَاءِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ ہوتی تھی اے اللہ! میرے ان گناہوں کو معاف فرما جو میں نے غلطی سے کئے، جان بوجھ کر کئے، چھپ کر کئے، علانیہ طور پر کئے، نادانی میں کئے یا جانتے بوجھتے ہوئے کئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19925]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19926
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنْ زِنًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ:" أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَأْتِنِي بِهَا" فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ رَجَمْتَهَا؟ فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ؟!" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یارسول اللہ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19926]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1696
حدیث نمبر: 19927
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، قَالَ: جَاءَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِلَى امْرَأَتِهِ مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ حينَ حَدِيثٍ , فَأَغْضَبَتْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نَظَرْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَنَظَرْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے اپنی بیوی کے پاس گئے، اس نے کہا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ ہمیں بھی سنائیے؟ انہوں نے کہا وہ تمہارے حق میں اچھی نہیں ہے اس پر وہ ناراض ہوگئی، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثریت خواتین کی نظر آئی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثریت فقراء کی نظر آئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19927]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3241
حدیث نمبر: 19928
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَعَفَّانُ المعنى , وهذا حديث عبد الرزاق قَالَا: ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الرِّشْكُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَحْدَثَ شَيْئًا فِي سَفَرِهِ، فَتَعَاهَدَ , قَالَ عَفَّانُ: فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرُوا أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عِمْرَانُ: وَكُنَّا إِذَا قَدِمْنَا مِنْ سَفَرٍ بَدَأْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّابِعِ , وَقَدْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، فَقَالَ:" دَعُوا عَلِيًّا، دَعُوا عَلِيًّا، دَعُوا عليًّا، إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کا ایک دستہ کسی طرف روانہ کیا اور ان کا امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کردیا، دوران سفر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ نئی باتیں کیں، تو چار صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ عہد کرلیا کہ یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ذکر کریں گے، ہم لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے اور انہیں سلام کرتے تھے۔ چناچہ اس مرتبہ بھی وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! علی نے اس اس طرح کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا: پھر دوسرے، تیسرے اور چھو تھے نے باری باری کھڑے ہو کر یہی کہا یارسول اللہ! علی نے اس اس طرح کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کا رنگ بدل چکا تھا اور تین مرتبہ فرمایا علی کو چھوڑ دو، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مؤمن کا محبوب ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19928]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وهذا الحديث من منكرات جعفر بن سليمان
حدیث نمبر: 19929
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19929]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران
حدیث نمبر: 19930
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے نظر بد یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک کے کسی مرض کا علاج منتر سے نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19930]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19931
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : " أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا نَاسٌ فُقَرَاءُ، فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فقراء کے ایک غلام نے مالداروں کے کسی غلام کا کان کاٹ دیا، اس غلام کے مالک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! ہم تو ویسے ہی فقیر لوگ ہیں، آپ اس پر کوئی چیز لازم نہ کریں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19931]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19932
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ :" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهُ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: لَوْ لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ، لَجَعَلْتُهُ رَأْيِي".
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کردیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19932]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1668
حدیث نمبر: 19933
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّهُ قَالَ: " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْهَا، وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا نَهْيٌ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حج تمتع کی آیت قرآن میں نازل ہوئی ہے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا: اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19933]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1226، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، والحسن البصري لم يسمع من عمران، لكنهما توبعا
حدیث نمبر: 19934
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَعَلَيْهِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ لَمْ نَرَهُ عَلَيْهِ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَا بَعْدَهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ نِعْمَةً، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى خَلْقِهِ" ، وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ: يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ.
ابورجاء عطاردی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے نقش ونگار والی ایک ریشمی چادر اپنے اوپر لی ہوئی تھی، جو ہم نے اس سے پہلے ان پر دیکھی تھی اور نہ اس کے بعد دیکھی، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص پر اللہ تعالیٰ اپنا انعام فرماتا ہے تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کی مخلوق پر نظر بھی آئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19934]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح