🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

812. حَدِيثُ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20269
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ يَعْنِي ابْنَ زَرِيرٍ , وَأَبُو الْأَشْهَبِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ , أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ أُصِيبَ أَنْفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ" ..
عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ کی ناک زمانہ جاہلیت میں " یوم کلاب " کے موقع پر ضائع ہوگئی تھی انہوں نے چاندی کی ناک بنوالی تھی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوگئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20269]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20270
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ , أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20270]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20271
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ الْعُطَارِدِيُّ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ ، قَالَ: وَزَعَمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ رَأَى عَرْفَجَةَ، قَالَ: أُصِيبَ أَنْفُ عَرْفَجَةَ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ" ..
عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ کی ناک زمانہ جاہلیت میں " یوم کلاب " کے موقع پر ضائع ہوگئی تھی انہوں نے چاندی کی ناک بنوالی تھی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20271]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20272
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَدَوِيُّ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ , أَخْبَرَنِي أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ , أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ أُصِيبَ أَنْفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ: وَزَعَمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَدْ رَأَى جَدَّهُ، يَعْنِي عَرْفَجَةَ..

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20273
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ تَمِيمٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ , أَنَّ أَنْفَهُ أُصِيبَ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ..

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن تميم مجهول لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20274
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ , أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكِلَابِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20275
حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي الْجَرْبِيَّ السِّمْسَارَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ يَعْنِي مَاءً اقْتَتَلُوا عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ , قَالَ: فَمَا أَنْتَنَ عَلَيَّ..

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طرفة بن عرفجة، وقد روي الحديث عن عبدالرحمن عن جده، وهو المحفوظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20276
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْكُوفِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ شَدَّ أَسْنَانَهُ بِالذَّهَبِ، فَذُكِرَ مِثْلَ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ , حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , قَالَ: سَمِعْت أَبِي , يَقُولُ: جَاءَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ، فَاسْتَأْذَنُوا عَلَى أَبِي الْأَشْهَبِ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَقَالُوا: حَدِّثْنَا , قَالَ: سَلُوا , فَقَالُوا: مَا مَعَنَا شَيْءٌ نَسْأَلُكَ عَنْهُ , فَقَالَتْ ابْنَتُهُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: سَلُوهُ عَنْ حَدِيثِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ.
حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے مغیرہ بن عبداللہ کے دانتوں پر سونے کی تار بندھی ہوئی دیکھی تو ابراہیم نخعی سے اس کا ذکر کیا انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ محدثین کی ایک جماعت ابوالاشہب کے پاس آئی اور ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی انہوں نے اجازت دے دی آنے والوں نے درخواست کی کہ ہمیں کوئی حدیث سنائیے ابوالاشہب نے فرمایا کہ تم خود پوچھو آنے والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے جو آپ سے پوچھیں تو پردے کے پیچھے سے ان کی بیٹی بولی کہ ان سے حضرت عرفجہ بن اسعد کی حدیث پوچھوجن کی ناک جنگ کلاب کے موقع پر زخمی ہوگئی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20276]

حکم دارالسلام: إسناد الأثر حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ , قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةَ وَهُمْ جَمِيعٌ، فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ" .
حضرت عرفجہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب فسادات اور فتنے رونما ہونگے سو جو شخص مسلمانوں کے معاملات میں " جبکہ وہ متحد متفق ہوں " تفریق پیدا کرنا چاہے تو اس کی گردن تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20277]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں