🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمُتَزَوِّجِ:
باب: شادی کرنے والے دولہا کے لیے دعا دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6386
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ أَوْ مَهْ"، قَالَ: قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا اثر دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر سونے پر شادی کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے، ولیمہ کر، چاہے ایک بکری کا ہی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6386]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا تو فرمایا: یہ نشان کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے گٹھلی برابر سونے کے عوض شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ» اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے، ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6386]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6387
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ، أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا"، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، أَوْ تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ"، قُلْتُ: هَلَكَ أَبِي، فَتَرَكَ سَبْعَ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ:" فَبَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ"، لَمْ يَقُلْ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرٍو: بَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی تھیں (راوی کو تعداد میں شبہ تھا) پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جابر کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا بیاہی سے۔ فرمایا، کسی لڑکی (کنواری) سے کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ میں نے عرض کی، میرے والد (عبداللہ) شہید ہوئے اور سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں۔ اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی لڑکی لاؤں۔ چنانچہ میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو ان کی نگرانی کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلمہ نے عمرو سے روایت میں اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6387]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑی تھیں۔ پھر میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے جابر! کیا تو نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے کہا: شوہر دیدہ عورت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا تو اس سے دل لگی کرتا اور وہ تجھ سے دل لگی کرتی؟ یا تو اسے ہنساتا اور وہ تجھے ہنساتی؟ میں نے کہا: میرے والد جب شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑی تھیں اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ ان کے ہاں ان جیسی کوئی ناتجربہ کار لے آؤں، چنانچہ میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا ہے جو ان کی دیکھ بھال کا اہتمام کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اللہ تمہیں بھرپور برکت عطا فرمائے۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلم نے عمرو سے یہ روایت بیان کی تو اس میں «بَارَكَ اللّٰهُ عَلَيْكَ» اللہ تم پر برکت نازل فرمائے کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6387]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں