مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
832. حَدِيثُ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ , وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، قَالَ مِحْجَنُ بْنُ الْأَدْرَعِ :" بَعَثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، ثُمَّ عَرَضَ لِي وَأَنَا خَارِجٌ مِنْ طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى صَعِدْنَا أُحُدًا، فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ , فَقَالَ:" وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً يَوْمَ يَدَعُهَا أَهْلُهَا" قَالَ يَزِيدُ:" كَأَيْنَعِ مَا تَكُونُ" قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ يَأْكُلُ ثَمَرَتَهَا؟ قَالَ:" عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعُ" , قَالَ:" وَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا تَلَقَّاهُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ مُصْلِتًا" , قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي، قَالَ:" أَتَقُولُهُ صَادِقًا؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا فُلَانٌ، وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ قَالَ: أَكْثَرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً , قَالَ: " لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِنَّكُمْ أُمَّةٌ أُرِيدَ بِكُمْ الْيُسْرُ" , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
رجاء بن ابی رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزاح کا غلبہ تھا حضرت محجن سے کہنے لگے جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے۔ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑھ گئے پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کر یہاں رہنے والے چلے جائیں گے پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہے میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو اسے مت سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کردوگے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20347]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، عبدالله بن شقيق لم يسمعه من محجن
حدیث نمبر: 20348
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ عَنْ مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رجاء بن أبى رجاء
حدیث نمبر: 20349
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ مِحْجَنٍ , قَالَ عَفَّانُ، وَهُوَ ابْنُ الْأَدْرَعِ , قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ , قَالَ: قَالَ رَجَاءٌ: أَقْبَلْتُ مَعَ مِحْجَنٍ ذَاتَ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا انْتَهَيْنَا إِلَى مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، فَوَجَدْنَا بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ جَالِسًا، قَالَ: وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: سُكْبَةُ، يُطِيلُ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ بُرَيْدَةُ , قَالَ: وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ , قَالَ: يَا مِحْجَنُ، أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ؟ قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ مِحْجَنٌ شَيْئًا وَرَجَعَ , قَالَ: وَقَالَ لِي مِحْجَنٌ , إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا، فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " وَيْلُ أُمِّهَا مِنْ قَرْيَةٍ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا كَأَعْمَرِ مَا تَكُونُ، يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا فَلَا يَدْخُلُهَا" , قَالَ: ثُمَّ انْحَدَرَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ، رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَيَسْجُدُ وَيَرْكَعُ، وَيَسْجُدُ وَيَرْكَعُ، قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا؟" قَالَ: فَأَخَذْتُ أُطْرِيهِ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا فُلَانٌ، وَهَذَا وَهَذَا , قَالَ:" اسْكُتْ، لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ" قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ حُجْرَةٍ، لَكِنَّهُ رَفَضَ يَدِي، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ" .
رجاء بن ابی رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزارح کا غلبہ تھا حضرت محجن سے کہنے لگے کہ جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑھ گئے پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کریہاں رہنے والے چلے جائیں گے پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہے میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو اسے مت سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کردو گے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20349]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، له إسنادان ضعيفان، فى الإسناد الأول رجاء بن أبى رجاء وهو مجهول، وفي السند الثاني انقطاع، عبدالله بن شقيق لم يسمعه من محجن