مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
842. حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20483
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: " أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ثَمَانِ لَيَالٍ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ:" فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ" ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: تِسْعَ لَيَالٍ، وَقَالَ عَفَّانُ : سَبْعَ لَيَالٍ.
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نو راتوں تک نماز عشاء کو تہائی رات میں مؤخر کیا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ یہ نماز جلدی پڑھادیں تو ہمارے لئے قیام اللیل میں سہولت ہوجائے چنانچہ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو جلدی پڑھانے لگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20483]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20484
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مَدَحَ صَاحِبًا لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَهُ، إِنْ كُنْتَ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَقُلْ أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَحَدًا" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہی ہے میں اسی طرح سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20484]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2662، م: 3000
حدیث نمبر: 20485
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ: فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عِيدٌ رَمَضَانُ، وَذُو الْحِجَّةِ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ (ثواب کے اعتبار سے) کم نہیں ہوتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20485]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1912، م: 1089
حدیث نمبر: 20486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّ بْنَ سَعِيدٍ وَقَالَ: بَهْزٌ عَبْدَ رَبِّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَبِي مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرَةَ فِي شَهَادَةٍ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقِمْ الرَّجُلَ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَقْعُدُ فِيهِ"، أَوْ قَالَ: " إِذَا أَقَامَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَلَا يَجْلِسْ فِيهِ، وَلَا يَمْسَحْ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ" .
ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کسی معاملے میں گواہی کے لئے بلایا گیا تو وہ تشریف لائے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اس جگہ سے کھڑا ہو اور دوسرا اس کی جگہ بیٹھ جائے اور اس بات سے بھی انسان ایسے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کا وہ مالک نہ ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20486]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى عبدالله ابن مولى أبى موسى
حدیث نمبر: 20487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي عَامِرٍ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک جہینہ ' اسلم ' غفار ' اور مزینہ قبیلے لے لوگ بنوتمیم ' اور بنوعامر بن صعصہ سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20487]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3515، م: 2522
حدیث نمبر: 20488
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ"، قَالَ: فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ عَلَى أُمَّتِهِ أَنْ تُزَكِّيَ أَنْفُسَهَا ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ التَّزْكِيَةَ عَلَى أُمَّتِهِ، أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ نَوْمٍ أَوْ غَفْلَةٍ.
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا اب اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے متعلق خود ہی اپنی پاکیزگی بیان کرنے میں اندیشہ ہوا یا اس وجہ سے فرمایا کہ ننید اور غفلت سے بھی تو کوئی چھٹکارا نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20488]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20489
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ" ، قَالَ قَتَادَةُ: فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ عَلَى أُمَّتِهِ التَّزْكِيَةَ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ رَاقِدٍ أَوْ غَافِلٍ.
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا ہے (کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ کسی دن سوتا رہ جائے) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20489]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20490
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ، ثُمَّ تَكُونُ فِتَنَةٌ، أَلَا فَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ فِيهَا، أَلَا وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ، أَلَا إِذَا نَزَلَتْ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، أَلَا وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، أَلَا وَمَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَيْسَتْ لَهُ غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ وَلَا إِبِلٌ، كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ" لِيَأْخُذْ سَيْفَهُ، ثُمَّ لِيَعْمِدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ، ثُمَّ لِيَدُقَّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنْ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟" إِذْ قَالَ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُخِذَ بِيَدِي مُكْرَهًا حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ، عُثْمَانُ يَشُكُّ فَيَجْذِفَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ، فَيَقْتُلَنِي، مَاذَا يَكُونُ مِنْ شَأْنِي؟ قَالَ:" يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ، وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب فتنے رونما ہوں گے جن میں لیٹا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے سے اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلاجائے اور جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں میں چلا جائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے اور جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو وہ اپنی تلوار پکڑے اور اس کی دھار کو ایک چٹان پردے مارے۔ اور اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے۔ اے اللہ کیا میں نے پہنچادیا دو مرتبہ کہا ایک آدمی نے پوچھا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کر کسی صف یا گروہ میں لے جائے وہاں کوئی آدمی مجھ پر تلوار سے حملہ کردے اور مجھے قتل کردے تو میرا کیا بنے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص تمہارا اپنا گناہ لے کر لوٹے گا اور اہل جہنم میں سے ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20490]
حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2887
حدیث نمبر: 20491
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ" ..
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20491]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20492
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد