صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمُشْرِكِينَ:
باب: مشرکین کی ہدایت کے لیے دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 6397
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ".
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے کہا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قبیلہ دوس نے نافرمانی اور سرکشی کی ہے، آپ ان کے لیے بددعا کیجئے۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے بددعا ہی کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں (میرے پاس) بھیج دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6397]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! قبیلہ دوس نے نافرمانی اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ آپ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔“ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خلاف بددعا کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ» ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں یہاں لے آ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6397]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة