صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ:
باب: مشرکین کے لیے بددعا کرنا۔
حدیث نمبر: Q6392
وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! میری مدد کر ایسے قحط کے ذریعہ جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا“ اور آپ نے بددعا کی ”اے اللہ! ابوجہل کو پکڑ لے“ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں یہ دعا کی کہ ”اے للہ! فلاں، فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے“ یہاں تک کہ قرآن کی آیت «ليس لك من الأمر شىء» نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: Q6392]
حدیث نمبر: 6392
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْ الْأَحْزَابَ، اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ".
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں ابن ابی خالد نے، کہا میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے لیے بددعا کی «اللهم منزل الكتاب، سريع الحساب، اهزم الأحزاب، اهزمهم وزلزلهم» ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! حساب جلدی لینے والے! احزاب کو (مشرکین کی جماعتوں کو، غزوہ احزاب میں) شکست دے، انہیں شکست دیدے اور انہیں جھنجوڑ دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6392]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکروں کے خلاف بددعا کی: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» ”اے اللہ! کتاب کو نازل کرنے والے! بہت جلد حساب لینے والے! لشکروں کو شکست دے۔ انہیں ہزیمت سے دوچار کر اور ان کے قدم پھسلا دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6392]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6393
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ قَنَتَ اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی آخر رکعت میں (رکوع سے اٹھتے ہوئے) «سمع الله لمن حمده» کہتے تھے تو دعائے قنوت پڑھتے تھے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور ناتواں مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ کو سخت کر دے، اے اللہ! وہاں ایسا قحط پیدا کر دے جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6393]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی آخری رکعت میں «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تو دعا کرتے: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ! کمزور ناتواں اہل ایمان کو نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کردے۔ اے اللہ! انہیں ایسے قحط سے دوچار کر دے جیسا کہ یوسف کے زمانے میں ہوا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6393]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6394
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، فَأُصِيبُوا فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَيَقُولُ:" إِنَّ عُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے عاصم نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم بھیجی، جس میں شریک لوگوں کو قراء (یعنی قرآن مجید کے قاری) کہا جاتا تھا۔ ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6394]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا جس میں شریک لوگوں کو «القُرَّاءُ» ”قراء“ کہا جاتا تھا۔ وہ تمام شہید کر دیے گئے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی چیز پر اس قدر غمناک ہوئے ہوں جس قدر ان کی شہادت پر غمناک ہوئے۔ آپ نمازِ فجر میں ایک مہینہ ان کے خلاف بددعا کرتے رہے۔ آپ فرماتے تھے: ” «عَصَيَّةُ عَصَتِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ» ”عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6394]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6395
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ، فَقَالَتْ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ"، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ؟، قَالَ:" أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكِ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے «السام عليك.» آپ کو موت آئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ «عليكم السام واللعنة.» تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو عائشہ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں «وعليكم» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6395]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے: «السَّامُ عَلَيْكَ» ”آپ پر موت آئے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے مقصد کو بھانپ لیا اور جواب دیا کہ ”تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! ٹھہرو، بے شک اللہ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟“ آپ نے فرمایا: ”کیا تو نے نہیں سنا کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا تھا؟ میں کہتا ہوں تم پر۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6395]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ:" مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ"، وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ.
ہم سے محمد بن مثنی ٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انصاری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہمیں «صلاة الوسطى» (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی جب تک کہ سورج غروب ہو گیا اور یہ عصر کی نماز تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6396]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم غزوہ خندق کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے، انہوں نے ہمیں «الصَّلَاةَ الْوُسْطَىٰ» ”صلاۃِ وسطیٰ“ نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا“ اور وہ عصر کی نماز تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6396]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة