🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

949. حَدِيثُ الْمَشَايِخِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21275
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَوْ عَنْ، رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1 فَكَأَنَّمَا قَرَأَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ" .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سورت اخلاص پڑھ لے یہ ایسے ہے جیسے اس نے ایک تہائی قرآن کی تلاوت کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21275]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على هلال بن يساف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21276
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ: وحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ الثَّقَفِيُّ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، قَالَ وَهْبٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ، كُنَّا نَفْعَلُهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ إِذْ كَانَ فِي الثِّيَابِ قِلَّةٌ، فَأَمَّا إِذْ وَسَّعَ اللَّهُ، فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكَى .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت سے ثابت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم اس طرح کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں اس پر طعنہ نہیں دیتا تھا یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ حکم اس وقت تھا جب لوگوں کے پاس کپڑوں کی قلت ہوتی تھی اب جب اللہ نے وسعت دے دی ہے تو دو کپڑوں میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21276]

حکم دارالسلام: صحيح، أبو نضرة لم يدرك هذه القصة ، و إنما سمعها من أبى سعيد الخدري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21277
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَسَافَرَ سَنَةً، فَلَمْ يَعْتَكِفْ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا" .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے ایک سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اس لئے اعتکاف نہیں کرسکے چنانچہ جب اگلا سال آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21277]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21278
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ" أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟" قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَرَدَّدَهَا مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ، قَالَ: " لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ"، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أُبَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ قرآن کریم میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال کئی مرتبہ دہرایا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا آیت الکرسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ابوالمنذر! تمہیں علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عرش کے پائے کے پاس یہ اللہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہوگی اور اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21278]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 810
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21279
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا عَلَى بَلِيٍّ وَعُذْرَةَ وَجَمِيعِ بَنِي سَعْدٍ بْنِ هُذَيْمِ بْنِ قُضَاعَةَ، وَقَالَ يَعْقُوبُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ قُضَاعَةَ، قَالَ: فَصَدَّقْتُهُمْ، حَتَّى مَرَرْتُ بِآخِرِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، وَكَانَ مَنْزِلُهُ وَبَلَدُهُ مِنْ أَقْرَبِ مَنَازِلِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا جَمَعَ إِلَيَّ مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا صَدَقَتُهُ، قَالَ: فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولٌ لَهُ قَطُّ قَبْلَكَ، وَمَا كُنْتُ لِأُقْرِضَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ مَالِي مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ فَتِيَّةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، فَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ، فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلَهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَّهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنِّي صَدَقَةَ مَالِي، وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولٌ لَهُ قَطُّ قَبْلَهُ، فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي، فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلَيَّ فِيهِ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً فَتِيَّةً سَمِينَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ ذَلِكَ، وَقَالَ: هَا هِيَ هَذِهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ قَبِلْنَاهُ مِنْكَ، وَآجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ"، قَالَ: فَهَا هِيَ ذِهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا، وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ ..
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلی، عذرہ اور تمام بنو سعد بن ہذیم کی طرف زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا میں نے ان سے زکوٰۃ وصول کی اور سب سے آخری آدمی کے پاس آگیا اس کا گھر اور علاقہ مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ قریب تھا جب اس نے اپنا سارا مال میرے سامنے پیش کیا تو اس کی زکوٰۃ صرف ایک بنت مخاض بنتی تھی میں نے اسے بتادیا کہ اس کی زکوٰۃ اتنی بنتی ہے اس نے کہا کہ اس اونٹنی میں تو دودھ ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہے بخدا! اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کا کوئی قاصد کبھی میرے مال میں آکر کھڑا نہیں ہوا اب میں اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کو ایسا جانور قرض نہیں دے سکتا جس میں دودھ ہو اور نہ ہی وہ سواری کے قابل ہو البتہ یہ جوان اور صحت مند اونٹنی موجود ہے اسے لے لو میں نے کہا کہ میں تو ایسی چیز نہیں لے سکتا جس کی مجھے اجازت نہ ہو البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے قریب ہی ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس چل کر وہی پیش کش کردو جو تم نے میرے سامنے رکھی ہے اگر انہوں نے قبول کرلیا تو بہت اچھا ورنہ وہ تمہیں واپس کردیں گے اس نے کہا کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ نکل پڑا اور اپنے ساتھ وہ اونٹنی بھی لے لی جو اس نے مجھے پیش کی تھی یہاں تک کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! میرے پاس آپ کا قاصد میرے مال کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آیا اللہ کی قسم اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کا کوئی قاصد کبھی میرے مال میں آکر کھڑا نہیں ہوا سو میں نے اپنا سارا مال اکٹھا کیا قاصد کا خیال یہ تھا کہ اس مال میں مجھ پر ایک بنت مخاض واجب ہوتی ہے لیکن وہ اونٹنی ایسی تھی کہ جس میں دودھ تھا اور نہ ہی وہ سواری کے قابل تھی اس لئے میں نے اس کے سامنے ایک جوان اور صحت مند اونٹنی پیش کی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کردیا اب یا رسول اللہ! یہ سب آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا ہوں آپ اسے قبول فرما لیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر زکوٰۃ تو اتنی ہی بنتی تھی البتہ اگر تم خود سے نیکی کرنا چاہتے ہو تو ہم قبول کرلیتے ہیں اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا اس نے وہ اونٹنی پیش کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعاء فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21279]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21280
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أُبَيٍّ، وَزَادَ فِيهِ، قَالَ عُمَارَةُ: وَقَدْ وُلِّيتُ صَدَقَاتِهِمْ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَخَذْتُ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً لِأَلْفٍ وَخَمْسِ مِئَةِ بَعِيرٍ عَلَيْهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21280]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21281
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ الْخُزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد، حَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَتَرَكَ آيَةً، فَقَالَ: " أَيُّكُمْ أَخَذَ عَلَيَّ شَيْئًا مِنْ قِرَاءَتِي؟" فَقَالَ أُبَيٌّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَلِمْتُ إِنْ كَانَ أَحَدٌ أَخَذَهَا عَلَيَّ، فَإِنَّكَ أَنْتَ هُوَ" .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دوران تلاوت ایک آیت چھوڑ دی نماز کے بعد فرمایا تم میں سے کس نے میری قرأت میں نئی چیز محسوس کی ہے؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے فلاں فلاں آیت چھوڑ دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے معلوم تھا کہ اگر کسی نے اس چیز کو محسوس کیا ہوگا تو وہ تم ہی ہوگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21281]

حکم دارالسلام: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21282
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ وَلَدِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ؟" وَهُوَ حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ، قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ لَوَجَعٌ مَا أَصَابَنِي قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ تَحْمَرُّ مَرَّةً وَتَصْفَرُّ أُخْرَى" .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا ام ملدم (بخار) کو ختم ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے یہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی مثال اس دانے کی سی ہے جو کبھی سرخ ہوتا ہے اور کبھی زرد۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21282]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الذى حدث عنه إسماعيل بن أمية ولابهام أم ولد أبى بن كعب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21283
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، أَنَّ عُمَرَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ، وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبَرَةِ، لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ .
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ حج تمتع کی ممانعت کردیں تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا آپ ایسا نہیں کرسکتے ہم نے خو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس ارادے سے رک گئے پھر ان کا ارادہ ہوا کہ دھاری دار یمنی چادروں اور حلوں سے منع کردیں کہ ان پر پیشاب کا رنگ چڑھایا جاتا ہے تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ یہ بھی نہیں کرسکتے اس لئے کہ یہ چادریں تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیب تن فرمائیں اور ہم نے بھی ان کے دور باسعادت میں پہنی ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21283]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يلق عمر و لا أبيا، لكن قد صح نهي عمر عن متعة الحج، وأما شطره الثاني فقد جاء من عدة طرق منقطعة، لكن بمجموعها تدل على أن لها أصلا عن عمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21284
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ ، قَالَ: أَقْبَلَ هُوَ وَنَفَرٌ مَعَهُ، فَوَجَدُوا سَوْطًا، فَأَخَذَهُ صَاحِبُهُ، فَلَمْ يَأْمُرُوهُ وَلَمْ يَنْهَوْهُ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: وَجَدْتُ مِئَةَ دِينَارٍ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلًا" فَكَرَّرَ عَلَيْهِ، حَتَّى ذَكَرَ أَحْوَالًا ثَلَاثَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ:" شَأْنُكَ بِهَا" .
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چند لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے راستے میں انہیں ایک درہ گرا پڑا ملا ان کے ایک ساتھی نے اسے اٹھالیا لوگوں نے اسے منع کیا اور نہ حکم دیا، مدینہ منورہ پہنچ کر میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کرو تین سال تک اس طرح ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21284]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، عمارة ابن غزية غلط فى إسناده، والصواب: عن سلمة بن كهيل، عن سويد بن غفلة ، وله فيه قصة مع زيد بن صوحان، لا مع أخيه صعصعة، ثم إن تعريفها ثلاثة أحوال خطأ من سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں