🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21418
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ أَنَّ أَبَا ذَرّ قَالَ لَهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 648، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21419
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، قَامَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَلِيهَا، لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعِشْرِينَ، قَامَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ! قَالَ:" لَا، إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ" فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَلِيهَا لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا أَنْ كَانَتْ لَيْلَةُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ وَاجْتَمَعَ لَهُ النَّاسُ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَادَ يَفُوتُنَا الْفَلَاحُ، قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ السُّحُورُ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا يَا ابْنَ أَخِي شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنا لمبا قیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔ اگلی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا ٢٨ ویں شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا لوگ بھی اکٹھے ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اتنی دیر تک نماز پڑھائی کہ ہمیں " فلاح " کے فوت ہونے کا اندیشہ ہونے لگا میں نے " فلاح " کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی سحری بتایا پھر فرمایا اے بھتیجے! اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی کسی رات میں ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21419]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الضعف على بن عاصم، وقد خولف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21420
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: " إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِي الظُّلْمَ، وَعَلَى عِبَادِي، أَلَا فَلَا تَظَالَمُوا، كُلُّ بَنِي آدَمَ يُخْطِئُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرُ لَهُ وَلَا أُبَالِي، وَقَالَ: يَا بَنِي آدَمَ كُلُّكُمْ كَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ عَارِيًا إِلَّا مَنْ كَسَوْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ ظَمْآن إِلَّا مَنْ سَقَيْتُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ، وَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ، وَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، وَاسْتَسْقُونِي أَسْقِكُمْ، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: وَعُيِيَّكُمْ وَبَنِيكُمْ، عَلَى قَلْبِ أَتْقَاكُمْ رَجُلًا وَاحِدًا لَمْ، تَزِيدُوا فِي مُلْكِي شَيْئًا، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ عَلَى قَلْبِ أَكْفَرِكُمْ رَجُلًا، لَمْ تُنْقِصُوا مِنْ مُلْكِي شَيْئًا إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ رَأْسُ الْمِخْيَطِ مِنَ الْبَحْرِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر ظلم کو حرام قرار دے رکھا ہے اس لئے ایک دوسرے پر ظلم مت کیا کرو تمام بنی آدم دن رات گناہ کرتے رہتے ہیں پھر مجھ سے معافی مانگتے ہیں تو میں انہیں معاف کردیتا ہوں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں نیز ارشاد ربانی ہے اے بنی آدم تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں اور تم میں سے ہر ایک برہنہ ہے سوائے اس کے جسے میں لباس دے دوں تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں کھلا دوں اور تم میں سے ہر ایک پیاسا ہے سوائے اس کے جسے میں سیراب کر دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا مجھ سے طلب کرو میں تمہیں لباس دوں گا مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا دوں گا اور مجھ سے پانی مانگو میں تمہیں پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس چھوٹے بڑے اور مرد و عورت تم میں سب سے متقی آدمی کے دل پر ایک انسان کی طرح جمع ہوجائیں تو میری حکومت میں کچھ اضافہ نہ کرسکیں گے اور اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس چھوٹے بڑے اور مرد و عورت سب ایک کافر آدمی کے دل پر جمع ہوجائیں تو میری حکومت میں اتنی کمی بھی نہیں کرسکیں گے جتنی کمی سوئی کا سرا سمندر میں ڈال کر نکالنے سے ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21420]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2577
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21421
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى"، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: " أَرْبَعُونَ سَنَةً، وَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ" ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وفقہ تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21421]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21422
وَابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21423
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، وَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذِكَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي" .
ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد نے کسی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کردیا میں نے عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر کہا کہ یہی سوال میں نے اپنے دوست حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہی سوال میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز تو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرو اگر ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا پڑے تو دوبارہ ان کے ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز پڑھ لیا کرو یہ نہ کہا کرو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا اب نہیں پڑھتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21423]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 648
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21424
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَحَدُكُمْ قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَصْفَرِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21424]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 510
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21425
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلَقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ" فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ:" هَلْ تَرَى أُحُدًا؟" فَنَظَرْتُ مَا عَلاَ مِنَ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ، فَقُلْتُ: أَرَاهُ، قَالَ:" مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ الدَّنَانِيرِ" .
احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا میں ایک حلقے میں " جس میں قریش کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے " شریک تھا کہ ایک آدمی آیا (اس نے ان کے قریب آکر کہا کہ مال و دولت جمع کرنے والوں کو خوشخبری ہو اس داغ کی جو ان کی پشت کی طرف سے داغا جائے گا اور ان کے پیٹ سے نکل جائے گا اور گدی کی جانب سے ایک داغ کی جو ان کی پیشانی سے نکل جائے گا پھر وہ ایک طرف چلا گیا میں اس کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے قریب جا کر بیٹھ گیا میں نے اس سے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ آپ کی بات سے خوش نہیں ہوئے؟ اس نے کہا کہ ایک مرتبہ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے ابوذر! میں نے لبیک کہا، انہوں نے فرمایا احد پہاڑ دیکھ رہے ہو؟ میں نے اوپر نگاہ اٹھا کر سورج کو دیکھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے کسی کام سے بھیجیں گے سو میں نے عرض کیا کہ دیکھ رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس پہاڑ کے برابر میرے پاس سونا ہو، میں اس سارے کو خرچ کردوں گا سوائے تین دنانیر کے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21425]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1408، م: 992
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21426
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، قَالَ شُعْبَةُ، أَوْ قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، أَدَعُ مِنْهُ يَوْمَ أَمُوتُ دِينَارًا أَوْ نِصْفَ دِينَارٍ إِلَّا لِغَرِيمٍ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہو کر جاؤں تو اس میں سے ایک یا آدھا دینار بھی میرے پاس بچ گیا ہو الاّ یہ کہ میں اسے کسی قرض خواہ کے لئے رکھ لوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21426]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سويد بن الحارث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21427
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَشْيَاءَ يُؤْجَرُ فِيهَا الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ لِي غَشَيَانَ أَهْلِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُؤْجَرُ فِي شَهْوَتِهِ يُصِيبُهَا؟! قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ آثِمًا، أَلَيْسَ كَانَ يَكُونُ عَلَيْهِ الْوِزْرُ؟!" فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَكَذَلِكَ يُؤْجَرُ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ایسی چیزوں کا تذکرہ فرمایا جن پر انسان کو ثواب ملتا ہے اور ان میں اپنی بیوی کے " پاس آنے " کو بھی ذکر فرمایا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا انسان کو اپنی خواہش کی تکمیل پر بھی ثواب ملتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر وہ گناہگار ہوتا تو اسے اس پر عذاب نہ ہوتا؟ لوگوں نے کہا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس طرح عذاب ہوتا ہے اس طرح ثواب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21427]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1006، وسنده منقطع، أبوالبختري لم يدرك أبا ذر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں