🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

957. حَدِيثُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21880
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنِ النَّخَعِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ , وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ" .
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21880]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد أعله بعض أهل العلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21881
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , قَالَ: " جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ , وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ" وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْ مَضَى السَّائِلُ فِي مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا.
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔ اللہ کی قسم! اگر سائل مزید دن بڑھانے کی درخواست کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں مزید اضافہ فرما دیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21881]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فيه على إبراهيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21882
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ هُوَ ابْنُ فَارِسٍ , أخبرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ صَاحِبِ الشَّهَادَتَيْنِ , عَنْ عَمِّهِ , أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ رَأَى فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ , فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ: " صَدِّقْ بِذَلِكَ رُؤْيَاكَ" , فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر ان کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دیا لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21882]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف للاختلاف الذى وقع فيه على يونس بن يزيد وعلى الزهري، وابن خزيمة مبهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21883
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيُّ , أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ , وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ , فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ , فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ , وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ , فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَ بِالْفَرَسِ , لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ , حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمْ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعَا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ , وَإِلَّا بِعْتُهُ , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ , فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ قَدْ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ؟" , قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَى قَدْ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ" , فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ , فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ , فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: وَيْلَكَ أن النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَقُولَ إِلَّا حَقًّا , حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ , لِمُرَاجَعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُرَاجَعَةِ الْأَعْرَابِيِّ , فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ , قَالَ خُزَيْمَةُ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ , فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ , فَقَالَ:" بِمَ تَشْهَدُ؟" , فَقَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ .
عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا سے " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہ تھے " نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہاتی سے ایک گھوڑا خریدا اور قیمت ادا کرنے کے لئے اسے اپنے ساتھ لے کر چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار تیز تھی اور وہ دیہاتی سست روی سے چل رہا تھا راستے میں اس دیہاتی کو کچھ لوگ ملے جو اس سے گھوڑے کا بھاؤ تاؤ کرنے لگے کیونکہ انہیں تو یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خرید چکے ہیں حتیٰ کہ ایک آدمی نے اسے گھوڑے کی قیمت لگائی وہ اس قیمت سے زیادہ تھی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خریدا تھا چنانچہ اس دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر کہا کہ اگر آپ نے یہ گھوڑا لینا ہے تو لے لیں ورنہ میں اسے بیچنے لگا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دیہاتی کی یہ آواز سن کر رک گئے اور فرمایا کیا میں نے تم سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! میں نے تو آپ کو یہ گھوڑا نہیں بیچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں بیچا میں نے تو خود تم سے اسے خریدا ہے۔ دونوں میں اس بات پر تکرار ہونے لگی اور لوگ بھی جمع ہونے لگے وہ دیہاتی کہنے لگا کہ کوئی گواہ پیش کیجئے جو اس بات کی گواہی دے کہ اسے میں نے آپ کو فروخت کردیا ہے؟ جو مسلمان بھی آتا وہ اس سے یہی کہتا کم بخت! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کہتے ہی وہ بات ہیں جو برحق ہو، اسی دوران حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے، انہوں نے بھی دونوں کی تکرار سنی، اس مرتبہ جب دیہاتی نے گواہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے یہ گھوڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے سچا ہونے کی بناء پر چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21883]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21884
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْحَسَنِ الْبَاهِلِيُّ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَخْضَرِ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ , أَنَّ خُزَيْمَةَ رَأَى فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَتَى خُزَيْمَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ , قَالَ: فَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ لَه: " صَدِّقْ رُؤْيَاكَ" , فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر ان کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دے لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21884]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، صالح بن أبى الأخضر ضعيف، وقد وقع فى سكن بن نافع اختلاف كثير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21885
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيُّ , حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ , وَخُزَيْمَةُ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ , عَنْ عَمِّهِ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ " رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ , فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ" .
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سران کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دے لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21885]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عامر بن صالح متروك، وفيه اختلاف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں