🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22236
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ , أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ يَدِهِ , فَيَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمْ الْمُصَافَحَةُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی مکمل بیمار پرسی یہ ہے کہ تم اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھو کہ وہ کیسا ہے؟ اور تمہاری باہمی ملاقات کے آداب کا مکمل ہونا " مصافحہ " سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22236]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا ، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22237
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ , حَدَّثَنَا أَبُو الرَّصَافَةِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَاهِلَةَ أَعْرَابِيٌّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ , فَيَقُومُ , فَيَتَوَضَّأُ , فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي , فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ , إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ , ثُمَّ يَحْضُرُ صَلَاةً مَكْتُوبَةً , فَيُصَلِّي , فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ , ثُمَّ يَحْضُرُ صَلَاةً مَكْتُوبَةً , فَيُصَلِّي , فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس مسلمان آدمی پر فرض نماز کا وقت آئے اور وہ کھڑا ہو کر خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر خوب اچھی طرح نماز پڑھے تو اس نماز اور گزشتہ نماز کے درمیان ہونے والے اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں پھر دوسری فرض نماز کا وقت آئے اور وہ کھڑا ہو کر خوب اچھی طرح نماز پڑھے تو اس نماز اور گزشتہ نماز کے درمیان ہونے والے اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22237]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22238
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , أَخْبَرَنِي حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ , وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22238]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22239
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ , أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ , عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ , فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا النَّارَ , وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ" ..
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے، اللہ اس کے لئے جہنم کو واجب کردیتا ہے اور جنت کو اس پر حرام قرار دے دیتا ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! اگرچہ تھوڑی سی چیز ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22239]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 137
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22240
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَبُو أُمَامَةَ الْحَارِثِيُّ , وَلَيْسَ هُوَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ یاد رہے کہ یہ حضرت ابو امامہ حارثی انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو دوسرے صحابی ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22240]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22241
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَأْتِي أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ , وَلَا يَؤُمَّنَّ أَحَدُكُمْ فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ , فَمَنْ فَعَلَ , فَقَدْ خَانَهُمْ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص پیشاب وغیرہ زبردستی روک کر نماز کے لئے مت آیا کرے اور جو شخص کو نماز پڑھائے وہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ مانگے جو ایسا کرتا ہے وہ نمازیوں سے خیانت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22241]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: ولا يؤمن أحدكم.....،وهذا إسناد ضعيف لضعف السفر بن نسير، ثم قد اختلف فيه على يزيد بن شريح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22242
حَدَّثَنَا زَيْدٌ , حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ , حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَيَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ , وَالثَّانِيَ , وَالثَّالِثَ حَتَّى إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ رُفِعَتْ الصُّحُفُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ملائکہ مسجدوں کے دروازوں پر آکربیٹھ جاتے ہیں اور پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والوں کے نام لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے اٹھالیے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22242]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22243
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَني أَبُو غَالِبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ , وَدَفْنُهُ حَسَنَةٌ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اسے مٹی میں ملا دینا نیکی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22243]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22244
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , وَأَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: " مَا كَانَ يَفْضُلُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پاس جو کی روٹی بھی نہیں بچتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22244]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22245
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنْ لَيْثٍ , عَنِ ابْنِ سَابِطٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ , فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ , وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ , وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا , فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ , وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ , وَلَا نِصْفَ النَّهَارِ , فَإِنَّهُ عِنْدَ سَجْرِ جَهَنَّمَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طلوع آفتاب کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت ہر کافر اسے سجدہ کرتا ہے اسی طرح غروب آفتاب کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت ہر کافر اسے سجدہ کرتا ہے اسی طرح نصف النہار کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22245]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وابن سابط لم يسمع من أبى أمامة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں