مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
975. حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21986
حدثنا عبد الله , حدثني أبى , فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّهُ لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْيَمَنِ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ رِجَالًا بِالْيَمَنِ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضِهِمْ , أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ؟ قَالَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا بَشَرًا يَسْجُدُ لِبَشَرٍ , لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا" ..
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یمن سے واپس آکر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عیسائیوں کو اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے دیکھا ہے میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اس سے زیادہ تعظیم کے مستحق تو آپ ہیں تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21986]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو ظبيان لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 21987
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: أَقْبَلَ مُعَاذٌ مِنَ الْيَمَنِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي رَأَيْتُ رِجَالًا , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21987]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روي عنه أبو ظبيان
حدیث نمبر: 21988
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا مُعَاذُ , أَتْبِعْ السَّيِّئَةَ بِالْحَسَنَةِ تَمْحُهَا , وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ" , فَقَالَ: وَقَالَ وَكِيعٌ: وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ , قَالَ أَبِي: وَقَالَ وَكِيعٌ: قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: عَنْ مُعَاذٍ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا معاذ! گناہ ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21988]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من معاذ، ثم قد اختلف على سفيان فى إسناده
حدیث نمبر: 21989
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مَوْهَبٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ , قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ , وَالشَّعِيرِ , وَالزَّبِيبِ , وَالتَّمْرِ" .
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ایک خط ہے جس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گندم، جو کشمش اور کھجور میں سے بھی زکوٰۃ وصول فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21989]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21990
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرًى عَرَبِيَّةٍ , فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ" , وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ , يَعْنِي: عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ.
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرب کی کسی بستی میں بھیجا اور حکم دیا کہ زمین کا حصہ وصول کرکے لاؤں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21990]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، جابر الجعفي ضعيف، ورواية محمد بن زيد عن معاذ منقطعة
حدیث نمبر: 21991
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ , أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ:" فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" لَا يُعَذِّبُهُمْ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21991]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 21992
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ , حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: مَوْتِي , وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ , وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ , وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ , وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطَهَا , وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ , فَيَسِيرُونَ فِي ثَمَانِينَ بَنْدًا تَحْتَ كُلِّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چھ چیزیں علامات قیامت میں سے ہیں میری وفات بیت المقذس کی فتح، موت کی وباء پھیل جانا جیسے بکریوں میں پھیل جاتی ہے ایک ایسی آزمائش جس کی جنگ ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوجائے گی نیزیہ کہ کسی شخص کو ایک ہزار بھی دے دیئے جائیں تو وہ ناراض ہی رہے اور رومی لوگ مسلمانوں کے ساتھ دھوکے بازی کریں اور اسی جھنڈوں کے تحت مسلمانوں کی طرف پیش قدمی کریں جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21992]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، النهاس بن قهم ضعيف، وشداد لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 21993
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: أَتَيْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: نَعَمْ , كُنْتُ رِدْفَهُ عَلَى حِمَارٍ , قَالَ: فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" إِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عجیب واقعہ ہمیں سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا ایک مرتبہ میں (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21993]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21994
حدثناه عبدُ الرحمن , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حدثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا يُعَذِّبَهُمْ" , قَالَ مَعْمَرٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ:" دَعْهُمْ يَعْمَلُوا"..
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21994]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 21995
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ مُعَاذٍ , بِنَحْوِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21995]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30