🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1171. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24469
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ، قَالَ: " شِبْرٌ"، قَالَتْ: قُلْتُ: إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ، قَالَ:" فَذِرَاعٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کی لمبائی ایک بالشت کے برابر بیان فرمائی تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں نظر آنے لگیں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24469]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جداً، الأن يزيد أبا المهزم منكر الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24470
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ، فَقَالُوا: أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: " غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ، وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ"، قَالُوا: فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو لوگوں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، لوگوں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24470]

حکم دارالسلام: إسناده فيه ضعف وانقطاع، على بن زيد وهو ابن جدعان - ضعيف، والحسن لم يصح له سماع من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24471
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا الْمَعْنَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ. فَقَالَ: " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ، وَلَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ، وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ، كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کے کچھ لوگوں کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا، یہ دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! درندے اور درخت آپ کو سجدہ کرسکتے ہیں تو ہمیں اس کا زیادہ حق پہنچتا ہے کہ آپ کو سجدہ کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبادت صرف اپنے رب کی کرو اور اپنے " بھائی کی عزت کرو، اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حکم دے کہ اس زرد پہاڑ سے اس سیاہ پہاڑ پر یا اس سیاہ پہاڑ سے اس سفید پہاڑ پر منتقل ہوجائے تو اس کے لئے یونہی کرنا اس کے حق میں مناسب ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24471]

حکم دارالسلام: قوله: لو كنت آمرا.... لزوجها صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24472
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقُومُ فِي صَلَاةِ الآَيَاتِ، فَيَرْكَعُ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يَرْكَعُ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَسْجُدُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز توبہ کے لئے کھڑے ہوتے تو تین مرتبہ رکوع کرتے پھر سجدہ فرماتے، پھر تین مرتبہ رکوع کرتے اور سجدہ فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24472]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 901
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24473
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلَّى، فَكَبَّرَ، وَكَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَرَأَ، فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَامَ، فَقَرَأَ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ" .
حضرت عائشہ ر صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مصلیٰ پر پہنچ کر نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی زندگی اور موت سے گہن نہیں لگتا، اس لئے جب ایسا ہو تو فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24473]

حکم دارالسلام: حديث صحيح سليمان بن كثير - وإن كان ضعيفا فى الزهري- متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24474
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ الْقُرَيْعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أُمَّ هِلَالٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى غَيْمًا إِلَّا رَأَيْتُ فِي وَجْهِهِ الْهَيْجَ، فَإِذَا مَطَرَتْ، سَكَنَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور جب بارش ہوجاتی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن ہوتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24474]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن عبدالرحمن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24475
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَأْتِي بَعْضَ نِسَائِهِ، فَاتَّبَعْتُهُ، فَأَتَى الْمَقَابِرَ، ثُمَّ قَالَ: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا بِكُمْ لَلَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ"، قَالَتْ: ثُمَّ الْتَفَتَ، فَرَآنِي، فَقَالَ:" وَيْحَهَا، لَوْ اسْتَطَاعَتْ مَا فَعَلَتْ" قَالَ: ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، میں سمجھی کہ وہ اپنی کسی اہلیہ کے پاس گئے ہیں، میں تلاش میں نکلی تو پتہ چلا کہ وہ بقيع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پلٹ کر دیکھا تو مجھ پر نظر پڑ گئی اور فرمایا افسوس! اگر اس میں طاقت ہوتی تو یہ ایسا نہ کرتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24475]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24476
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْتَأْذِنُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْمَرْأَةِ مِنَّا" بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51 قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا: مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لَهُ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَقُولُ لَهُ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ، فَإِنِّي لَا أُرِيدُ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کر دیں اور جیسے چاہیں اپنے قریب کر لیں۔۔۔۔ تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیا کرتے تھے، ہم میں سے جس کی بھی باری کا دن ہوتا، عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی تھی کہ یا رسول اللہ! اگر یہ میرے اختیار میں ہے تو میں آپ پر کسی دوسرے کو ترجیح نہیں دینا چاہتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24476]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4789، م: 1476
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24477
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ سَوْدَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لِعَائِشَةَ. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْسِمُ لَهَا يَوْمَهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ جب بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنی باری کا دن مجھے دے دیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باری کا دن مجھے دیتے تھے اور وہ پہلی خاتون تھیں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد نکاح فرمایا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24477]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5212، م: 1463
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24478
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ، تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا، وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا، وَتَيْسِيرَ رَحِمِهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کے مبارک ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا نکاح آسانی سے ہو جائے اس کا مہر آسان ہو اور اس کا رحم سہل ہو (نطفہ قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24478]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں