مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 24479
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ بِشِمَالِهِ أَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ، وَمَنْ شَرِبَ بِشِمَالِهِ شَرِبَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا ہے اس کے ساتھ شیطان بھی کھانے لگتا ہے اور جو شخص بائیں ہاتھ سے پیتا ہے اس کے ساتھ شیطان بھی پینے لگتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24479]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 24480
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ، بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: إِنِّي يَا بُنَيَّ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ، فَرَدُّوهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ، فَاقْبَلِيهِ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ" .
مطلب بن حنطب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ نفقہ اور کپڑے بھجوائے، انہوں نے قاصد سے فرمایا بیٹا! میں کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ، لوگ اسے بلا لائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے ایک بات یاد آ گئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ! جو شخص تمہیں بن مانگے کوئی ہدیہ پیش کرے تو اسے قبول کر لیا کرو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24480]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف، المطلب بن حنطب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24481
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِيهِ، فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ، وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جا رہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جارہے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بےہوشیوں میں میری مدد فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24481]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 24482
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ، وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد میں کسی پر بھی موت کی شدت کو دیکھ کر اسے ناپسند نہیں کروں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24482]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4446
حدیث نمبر: 24483
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدِّثُهُ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ، فَسَارَّهَا فَبَكَتْ، ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ: مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتِ، ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ؟ قَالَتْ: " سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ، فَضَحِكْتُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اس دوران حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں، بعد میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی تھی جس پر تم رونے لگیں اور دوبارہ سرگوشی کی تو تم ہنسنے لگی تھیں؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے اپنی وفات کی خبر دی تو میں رونے لگی اور دوبارہ سرگوشی کی تو یہ بتایا کہ ان کے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے میں ہی ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24483]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3625، م: 2450
حدیث نمبر: 24484
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي تَمْرِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً، أَوْ قَالَ تِرْيَاقًا، أَوَّلَ بُكْرَةٍ عَلَى الرِّيقِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھا نے میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24484]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 24485
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَة ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ: " إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي، وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ" وقَالَ قُتَيْبَةُ: صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اپنے بعد مجھے تمہارے معاملات کی فکر پریشان کرتی ہے اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کریں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24485]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24486
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ، فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ؟ فَقَالَ: " إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے تھے، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کلمات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگر تم خیر کی بات کرو تو وہ قیامت تک کے لئے اس پر مہر بن جائیں گے اور اگر کوئی دوسری بات کرو تو وہ اس کا کفارہ بن جائیں گے اور وہ کلمات یہ ہیں سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24486]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24487
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْخِيَارِ، دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا، فَلَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا دُونَ أَبَوَيْكِ". فَقَالَتْ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ.... وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ سورة الأحزاب آية 28 - 29 الْآيَةَ كُلَّهَا. قَالَتْ: فَقُلْتُ: قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ، قَالَتْ: فَفَرِحَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24487]
حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24488
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشٍ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَعَلَيَّ ثَوْبٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک بستر پر سوجاتی تھی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی، البتہ میرے اوپر کپڑا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24488]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن أبى سلمة