🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1249. حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27190
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ضَحَّى، اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ، أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، فَإِذَا صَلَّى وَخَطَبَ النَّاسَ، أَتَى بِأَحَدِهِمَا وَهُوَ قَائِمٌ فِي مُصَلَّاهُ، فَذَبَحَهُ بِنَفْسِهِ بِالْمُدْيَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مِمَّنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ، وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ"، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْآخَرِ، فَيَذْبَحُهُ بِنَفْسِهِ , وَيَقُولُ:" هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ" , فَيُطْعِمُهُمَا جَمِيعًا الْمَسَاكِينَ، وَيَأْكُلُ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَا , فَمَكَثْنَا سِنِينَ، لَيْسَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يُضَحِّي، قَدْ كَفَاهُ اللَّهُ الْمُؤْنَةَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغُرْمَ .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت اور خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی اور فرمایا: ”ان میں سے ایک تو ہر اس شخص کی جانب سے ہے جو اللہ کی وحدانیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ رسالت کی گواہی دیتا ہو اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری کفایت فرمائی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27190]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، على بن الحسين لم يدرك أبا رافع، ولضعف عبدالله بن محمد، وقد اضطرب فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27191
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27191]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، على ابن الحسين لم يدرك أبا رافع، ولضعف عبدالله بن محمد، وقد اضطرب فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27192
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْبُوذٌ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ، رُبَّمَا ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَيَتَحَدَّثُ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا إِلَى الْمَغْرِبِ , إِذْ مَرَّ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ:" أُفٍّ لَكَ , أُفٍّ لَكَ" , مَرَّتَيْنِ , فَكَبُرَ فِي ذَرْعِي وَتَأَخَّرْتُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي، فَقَالَ:" مَا لَكَ؟! امْشِ"، قَالَ: قُلْتُ: أَحْدَثْتُ حَدَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" , قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِي، قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّ هَذَا قَبْرُ فُلَانٍ، بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانٍ، فَغَلَّ نَمِرَةً، فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلَهَا مِنْ نَارٍ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز عصر پڑھنے کے بعد بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبد الاشہل کے یہاں چلے جاتے تھے اور ان کے ساتھ باتیں فرماتے تھے اور مغرب کے وقت وہاں سے واپس آتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے نماز مغرب کے لئے واپس آ رہے تھے کہ جنت البقیع سے گزر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: ”تم پر افسوس ہے۔“ (میں چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا اس لئے)، میرے ذہن پر اس بات کا بہت بوجھ ہوا اور میں پیچھے ہو گیا کیونکہ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد میں ہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟ چلتے رہو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ میں نے عرض کیا کہ آپ نے مجھ پر (دومرتبہ) «تف» کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، دراصل یہ تو میں نے فلاں آدمی کی قبر پر کہا تھا، جسے میں نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے فلاں قبیلے میں بھیجا تھا، اس نے خیانت کر کے ایک چادر چھپا لی تھی، اب ویسے ہی آگ کی چادرا سے پہنائی جا رہی ہے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27192]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال منبوذ، و فى سماع الفضل بن عبيد الله بن أبى رافع من جده نظر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27193
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مَنْبُوذٍ رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ، أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، فَذَكَرَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَكَبُرَ ذَلِكَ فِي ذَرْعِي، وَقَالَ: قُلْتُ: أَحْدَثْتُ حَدَثًا؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: أَفَّفْتَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27193]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال منبوذ، وفي سماع الفضل بن عبيد الله بن أبى رافع من جده نظر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27194
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ بِالصَّلَاةِ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے کان میں اذان دی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27194]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27195
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ، فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟" , فَقَالَ: شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ، فَقَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ"، فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ" , فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ" , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ، لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتَّ"، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ، وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ، فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا، فَأَكَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ہنڈیا میں گوشت پکایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی دستی نکال کر دو“، چنانچہ میں نے نکال دی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دستی طلب فرمائی، میں نے وہ بھی دے دی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دستی طلب فرمائی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ایک بکری کی کتنی دستیاں ہوتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم خاموش رہتے تو اس ہنڈیا سے اس وقت تک دستیاں نکلتی رہتیں جب تک میں تم سے مانگتا رہتا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر کلی کی، انگلیوں کے پورے دھوئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے پھر دوبارہ ان کے پاس آئے تو کچھ ٹھنڈا گوشت پڑا ہوا پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی تناول فرمایا اور مسجد میں داخل ہو کر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27195]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره فى قصة مناولة الذراع، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وأبو جعفر الرازي مختلف فيه، وقد اختلف عنه فى هذا الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27196
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَال: فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ لَمَّا وُلِدَ , أَرَادَتْ أُمُّهُ فَاطِمَةُ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ: " لَا تَعُقِّي عَنْهُ، وَلَكِنْ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، ثُمَّ وُلِدَ حُسَيْنٌ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دو مینڈھوں سے ان کا عقیقہ کرنا چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ اس کے سر کے بال منڈوا کر اس کے وزن کے برابر چاندی اللہ کے راستے میں صدقہ کر دو، پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا (اور عقیقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27196]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27197
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَيُونُسُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی غیر محرم ہونے کی صورت میں کیا تھا اور ان کے ساتھ تخلیہ بھی غیر محرم ہونے کی حالت میں کیا تھا اور میں ان دونوں کے درمیان قاصد تھا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27197]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وقد اختلف على ربيعة بن أبى عبد الرحمن فى وصله وإرساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27198
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ مَوْلَى بَنِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ"، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَ: أَنَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرما دیا تھا کہ تمہارے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان کچھ شکر نجی ہو جائے گی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ایسا کروں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر تو میں سب سے زیادہ شقی ہوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، البتہ جب ایسا ہو جائے تو تم انہیں ان کی پناہ گاہ میں واپس پہنچا دینا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27198]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وهذا من منكرات الفضيل بن سليمان، وقد اضطرب فى إسناده، وأبو أسماء انفرد به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں