مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1271. حَدِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ اسْمُهَا نُسَيْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27307
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " وَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ , أَنْ لَا نَنُوحَ" , فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَفِيهِمْ مَأْتَمٌ , فَلَا أُبَايِعُكَ حَتَّى أُسْعِدَهُمْ كَمَا أَسْعَدُونِي، فَقَالَ: فَكأنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَافَقَهَا عَلَى ذَلِكَ، فَذَهَبَتْ فَأَسْعَدَتْهُمْ , ثُمَّ رَجَعَتْ , فَبَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرُ تِلْكَ , وَغَيْرُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ.
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا . . .» تو اس میں نوحہ بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں خاندان والوں کو مستثنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہٰذا میرے لئے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں، سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مستثنیٰ کر دیا، وہ گئیں، انہیں پرسہ دیا اور واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی، وہ کہتی ہیں کہ پھر اس وعدے کو ان کے اور ام سلیم بنت ملحان کے علاوہ کسی نے وفا نہ کیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27307]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4892، م: 937
حدیث نمبر: 27308
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وحَبِيبٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا يَنُحْنَ" , فَقَالَتْ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ امْرَأَةً أَسْعَدَتْنِي , أَفَلَا أُسْعِدُهَا؟ فَقَبَضَتْ يَدَهَا , وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ , فَلَمْ يُبَايِعْهَا .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» تو اس میں نوحہ بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں خاندان والوں کو مستثنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہٰذا میرے لئے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس وقت ان سے بیعت نہیں لی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27308]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1306، م: 936
حدیث نمبر: 27309
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَبُو يَعْقُوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّة , عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , فَقَامَ عَلَى الْبَابِ , فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ , فَرَدَدْنَ السَّلَامَ , فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ , فَقُلْنَ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولِهِ , فَقَالَ: تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا , وَلَا تَسْرِقْنَ , وَلَا تَزْنِينَ , وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ , وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ , وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ؟ فَقُلْنَ: نَعَمْ , فَمَدَّ عُمَرُ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَابِ , وَمَدَدْنَ أَيْدِيَهُنَّ مِنْ دَاخِلٍ , ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ , وَأَمَرَنَا أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعُتَّقَ وَالْحُيَّضَ , وَنُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ , وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا , فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبُهْتَانِ , وَعَنْ قَوْلِهِ: وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 , قَالَ: هِيَ النِّيَاحَةُ" .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین و انصار کو ایک گھر میں جمع فرمایا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا، وہ آ کر دروازے پر کھڑے ہوئے اور سلام کیا، خواتین نے جواب دیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، ہم نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے قاصد کو خوش آمدید، انہوں نے فرمایا: کیا تم اس بات پر بیعت کرتی ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، بدکاری نہیں کرو گی، اپنے بچوں کو جان سے نہیں مارو گی، کوئی بہتان نہیں گھڑو گی اور کسی نیکی کے کام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کرو گی؟ ہم نے اقرار کر لیا اور گھر کے اندر سے ہاتھ بڑھا دئیے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باہر سے ہاتھ بڑھایا اور کہنے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم بھی دیا کہ عیدین میں کنواری اور ایام والی عورتوں کو بھی لے کر نماز کے لئے نکلا کریں اور جنازے کے ساتھ جانے سے ہمیں منع فرمایا اور یہ کہ ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے، کسی خاتون نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے «وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ» کا مطلب پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں ہمیں نوحہ سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27309]
حکم دارالسلام: حديث صحيح دون ذكر عمر فيه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبدالرحمن