مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1294. وَمِنْ حَدِيثِ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27404
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَشُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ , أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ الَّذِي يُجَامِعُهَا فِيهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ , إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ أَذًى" .
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے، جن میں آپ کے ساتھ سوتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں! بشرطیکہ اس پر کوئی گندگی نظر نہ آتی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27404]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27405
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ابْنُ شَوَّالٍ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ فَأَخْبَرَتْهُ , " أَنَّهَا بَعَثَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: أَنَّهُ بَعَثَ , بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ" , وَقَالَ يَحْيَى:" قَدَّمَهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ" .
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27405]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1292
حدیث نمبر: 27406
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَعَتْ لَهُ بِسَوِيقٍ , فَشَرِبَ , فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي , أَلَا تَتَوَضَّأُ , فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُحْدِثْ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کر لی، تو حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27406]
حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 27407
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَعْلَمَهُمْ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ , ثُمَّ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ , قَالَ: فَقَالَ: " الْغُبَيْرَاءُ؟" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" لَا تَطْعَمُوهُ" , ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ , ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا , فَقَالَ:" الْغُبَيْرَاءُ" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" لَا تَطْعَمُوهُ" , ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا , سَأَلُوهُ عَنْهُ , فَقَالَ:" الْغُبَيْرَاءُ؟" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" لَا تَطْعَمُوهُ" , قَالُوا: فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا , قَالَ:" مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا , فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ" .
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یمن کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کا طریقہ، سنتیں اور فرائض سکھائے پھر وہ لوگ کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم لوگ گیہوں اور جَو کا مشروب بناتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی جس کا نام «غبيراء» رکھا گیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت پیو“، دو دن بعد انہوں نے پھر اسی چیز کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”وہی جس کا نام «غبيراء» ہے؟“ تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے اور واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی یہی سوال جواب ہوئے، لوگوں نے عرض کیا کہ اہل یمن اسے نہیں چھوڑیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسے نہ چھوڑے اس کی گردن اڑا دو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27407]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج وأبن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27408
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ مَعْمَرٍ . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ , أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ , وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ: وَكَانَ رَحَلَ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَمَاتَ , وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ , وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ , زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ , وَمَهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ , ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ , وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ , وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ , وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ , وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ" .
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں، ایک مرتبہ عبیداللہ نجاشی کے یہاں گئے اور وہیں فوت ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا، اس وقت وہ ملک حبش میں ہی تھیں، نجاشی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وکیل بن کر ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کرا دیا اور انہیں چار ہزار درہم مہر کے دئیے اور انہیں اپنے یہاں سے رخصت کر دیا اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کر دیا، یہ سب تیاریاں نجاشی کے یہاں ہوئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس کچھ نہیں بھیجا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے مہر چار سو درہم رہے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27408]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وقد اختلف فى اسناد على الزهري
حدیث نمبر: 27409
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي نَافِعٌ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ سَمِعَهُ يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعِيرُ الَّتِي فِيهَا الْجَرَسُ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ" .
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27409]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال الجراح مولي أم حبيبة، والأصح أنه أبوالجراح
حدیث نمبر: 27410
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ , فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ , يَتْلُو أَحَادِيثَ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , وَقَالَ: أَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " رَأَيْتُ مَا تَلْقَى أُمَّتِي بَعْدِي , وَسَفْكَ بَعْضِهِمْ دِمَاءَ بَعْضٍ , وَسَبَقَ ذَلِكَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى , كَمَا سَبَقَ فِي الْأُمَمِ قبلهم , فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُوَلِّيَنِي شَفَاعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيهِمْ , فَفَعَلَ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: قُلْتُ لِأَبِي: هَاهُنَا قَوْمٌ يُحَدِّثُونَ بِهِ , عَنْ أَبِي الْيَمَانِ , عَنْ شُعَيْبٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ؟ قَالَ لَيْسَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ , إِنَّمَا هُوَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ.
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے وہ تمام چیزیں دیکھیں جن سے میری امت میرے بعد دو چار ہو گی اور ایک دوسرے کا خون بہائے گی اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے سے فرما رکھا ہے جیسے پہلی امتوں کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا گیا تھا، میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ قیامت کے دن ان کی شفاعت کا مجھے حق دے دے، چنانچہ پروردگار نے ایسا ہی کیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27410]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، هذا الحديث ليس محفوظا من حديث الزهري، وأن الصواب فيه أنه من حديث ابن أبى حسين
حدیث نمبر: 27411
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْفَرِيضَةِ , بَنَى اللَّهُ تَعَالَى لَهُ , أَوْ قَالَ: بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ" .
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایک دن میں فرائض کے علاوہ بارہ رکعتیں (نوافل) پڑھ لے اللہ اس کا گھر جنت میں بنا دے گا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27411]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، أبو صالح لم يسمعه من أم حبيبة
حدیث نمبر: 27412
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , انْكِحْ أُخْتِي ابْنَةَ أَبِي سُفْيَانَ , فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهَا:" أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ , وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي , قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي" , فَقُلْتُ: فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي , إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ , وَأَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ , فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کر لیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہیں یہ بات پسند ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں، اس لئے خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہو سکتے ہیں، میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لئے وہ حلال نہیں ہے (کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو)“، انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا کیونکہ مجھے اور اس کے باپ (ابو سلمہ) کو بنو ہاشم کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا، بہرحال! تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27412]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1449