مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(ناراضگی کے خاتمے اور قتل کی ممانعت کا فیصلہ)
حدیث نمبر: 6
حَدَّثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ:" مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ يَتَغَيَّظُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ! مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ عَنْهُ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لأَذْهَبَ غَضَبَهُ مَا قُلْتَ , ثُمَّ قَالَ: مَا كَانَتْ لأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابوبرزہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا وہ اپنے ساتھیوں میں سے ایک صاحب پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے، میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! یہ کون شخص ہے، جس پر آپ ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے جو کہا تھا اس بات نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غصے کو ختم کر دیا پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کسی کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ (اس کی ناراضگی کی وجہ سے کسی کو قتل کیا جائے)۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 6]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 79، 80، 81، 82،والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4082، 4083، 4084، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3520، 3521، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4363، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13507، وأحمد فى «مسنده» برقم: 55، 62»