🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ:
باب: جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6500
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ؟"، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ: أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا"، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوهُ؟"، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ".
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ سوا کجاوہ کے آخری حصہ کے میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک، یا رسول اللہ! پھر تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے پھر فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! پھر تھوڑی دیر مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے۔ پھر فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا، اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا، اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ جب بندے یہ کر لیں تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6500]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میرے اور آپ کے درمیان صرف کچاوے کی پچھلی لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! میں نے کہا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ» اللہ کے رسول! میں سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے، دوبارہ فرمایا: اے معاذ! میں نے کہا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ» اللہ کے رسول! میں سعادت مندی کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: «اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ» اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا اپنے بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے کہا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ» اللہ کے رسول! میں سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے، جب بندے یہ کام کر لیں تو ان کا اللہ کے ذمے کیا حق ہے؟ میں نے کہا: «اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ» اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6500]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں