الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 

مسند الحميدي کل احادیث 1337 :حدیث نمبر
مسند الحميدي
فِي الْحَجِّ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی منقول حج سےمتعلق روایات
حدیث نمبر 514
حدیث نمبر: 514
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
514 - حدثنا الحميدي قال: ثنا سفيان قال: ثنا إبراهيم بن عقبة اخو موسي بن عقبة قال: سمعت كريبا يحدث انه سمع ابن عباس يقول: قفل رسول الله صلي الله عليه وسلم فلما كان بالروحاء لقي ركبا فسلم عليهم فردوا عليه فقال: «من القوم» ؟ قالوا المسلمون فمن القوم؟ فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم: «انا رسول الله» ففزعت إليه امراة فرفعت إليه صبيا لها من محفه فقالت يا رسول الله الهذا حج فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم: «نعم، ولك اجر» قال سفيان وكان ابن المنكدر حدثناه اولا مرسلافقيل لهإنما سمعه من إبراهيم فاتيت إبراهيم فسالته عنه فحدثني به وقال حدثت به ابن المنكدر فحج باهله كلهم514 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو مُوسَي بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِي رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ» ؟ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ فَمَنِ الْقَوْمُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ» فَفَزِعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مِحَفِّهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ» قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلًا مُرْسَلًافَقِيلَ لَهُإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ فَأَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ وَقَالَ حَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فَحَجَّ بِأَهْلِهِ كُلِّهِمْ
514- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لارہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روحاء کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کچھ سواروں سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کو جواب دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کون لوگ ہو؟۔ انہوں نے بتایا: ہم مسلمان ہیں، انہوں نے دریافت کیا: آپ کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، تو ایک عورت تیزی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے اپنے بچے کو اپے ہودج میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند کیا اور عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کا اس کا حج ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔
سفیان کہتے ہیں: ابن منکدر نامی راوی نے یہ روایت پہلے ہمیں مرسل حدیث کے طور پر سنائی تھی، تو مجھے یہ بات بتائی گئی کہ انہوں نے یہ روایت ابراہیم سے سنی ہے تو میں ابراہیم کے پاس آیا، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے یہ بات سنائی۔ انہوں نے بتایا: میں نے یہ روایت ابن منکدر کو سنائی تھی، تو انہوں نے اپنے تمام گھر والوں سمیت حج کیا تھا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1336، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1596، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 3049، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 144، 3797، 3798، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2647، 2648، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3611، 3612، 3613، 3614، 3615، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1736، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9805، 9806، 9807، 9808، 9809،9810، 9811، 9812، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1923، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2400»

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.