مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 784
حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَأُتِيَ بِذُودٍ غُرِّ الذُّرَى، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِلْنَا، فَحَلَفَ أَنْ لا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ أُتِيَ بِذُودٍ أُخْرَى، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِلْنَا، فَحَمَلَنَا، فَلَمَّا أَدْبَرْنَا، قُلْنَا: مَاذَا صَنَعْنَا؟ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ يَمِينَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفید کوہان والے کچھ اونٹ پیش کئے گئے تھے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں سواری کے لیے دیجئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لیے جانور نہیں دیں گے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اور اونٹ پیش کئے گئے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہماری سواری کے لیے دیجئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سواری کے لیے دے دئے، جب ہم وہاں سے واپس آئے تو ہم نے سوچا، یہ ہم نے کیا کیا، کیا ہے؟ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ آپ کی قسم کی طرف مبذول نہیں کروائی، پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جب بھی قسم اٹھاؤں گا اور پھر اس کے برعکس کام کو بہتر سمجھوں گا، تو وہ کام کروں گا، جو زیادہ بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔“ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3133، 4385، 5517، 5518، 6623، 6649، 6680، 6718، 6719، 6721، 7555، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1649، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4354، 5222، 5255، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3788، 3789، 4357، 4358، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3276، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1826، 1827، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2099، 2100، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2107، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19467، 19541، 19867، 19902، 19903، أحمد فى «مسنده» برقم: 13033 برقم: 13827»