🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ مِيرَاثِ الْبَنَاتِ:
باب: لڑکیوں کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6733
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" مَرِضْتُ بِمَكَّةَ مَرَضًا فَأَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُلْتُ: فَالشَّطْرُ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: الثُّلُثُ، قَالَ: الثُّلُثُ كَبِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَرَكْتَ وَلَدَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَأُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي، فَقَالَ: لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ" لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ، قَالَ سُفْيَانُ، وَسَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ.
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں مکہ مکرمہ میں (حجۃ الوداع میں) بیمار پڑ گیا اور موت کے قریب پہنچ گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں تو کیا مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصہ کا صدقہ کر دینا چاہئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ گو تہائی بھی بہت ہے، اگر تم اپنے بچوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں تنگدست چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں ثواب ملے گا یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی ہجرت میں پیچھے رہ جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد تم پیچھے رہ بھی گئے تب بھی جو عمل تم کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو گی تو اس کے ذریعہ درجہ و مرتبہ بلند ہو گا اور غالباً تم میرے بعد زندہ رہو گے اور تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو گا اور بہتوں کو نقصان پہنچے گا۔ قابل افسوس تو سعد ابن خولہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس لیے افسوس کا اظہار کیا کہ (ہجرت کے بعد اتفاق سے) ان کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہو گئی۔ سفیان نے بیان کیا کہ سعد ابن خولہ رضی اللہ عنہ بنی عامر بن لوی کے ایک آدمی تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6733]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں مکہ مکرمہ میں ایسا بیمار ہوا کہ مجھے موت نظر آنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سا مال ہے جبکہ میری وارث صرف بیٹی ہے تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ۔ میں نے پوچھا: پھر نصف مال صدقہ کر دوں؟ فرمایا: نہ۔ میں نے عرض کی: کیا ایک تہائی کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، گو تہائی بہت زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے بچوں کو مال دار چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اور تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں ثواب ملے گا یہاں تک کہ اگر تو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالے تو یہ بھی موجبِ اجر و ثواب ہوگا۔ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی ہجرت میں پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو میرے بعد پیچھے رہ بھی گیا تب بھی جو عمل کرے گا اور اس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہوگی تو اس کے ذریعے سے تیرا درجہ اور مرتبہ ہوگا۔ میرے بعد یقیناً زندہ رہو گے یہاں تک کہ تم سے بہت لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جبکہ بہت سے لوگ ضرر اٹھائیں گے۔ قابلِ افسوس تو سعد بن خولہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس لیے اظہارِ افسوس کیا کہ ان کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہوگئی۔ سفیان نے کہا: سعد بن خولہ قبیلہ بنو عامر بن لؤی کے فرد تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6733]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6734
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" أَتَانَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، بِالْيَمَنِ مُعَلِّمًا وَأَمِيرًا، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ، فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ، وَالْأُخْتَ النِّصْفَ".
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ شیبان نے بیان کیا، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں یمن میں معلم و امیر بن کر تشریف لائے۔ ہم نے ان سے ایک ایسے شخص کے ترکہ کے بارے میں پوچھا جس کی وفات ہوئی ہو اور اس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو اور اس نے اپنی بیٹی کو آدھا اور بہن کو بھی آدھا دیا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6734]
حضرت اسود بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس یمن میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ معلم یا امیر کی حیثیت سے آئے، ہم نے ان سے ایک ایسے شخص کے ترکے کے متعلق دریافت کیا جس کی وفات ہوئی ہو اور اس نے ایک بیٹی اور بہن چھوڑی ہو، تو انہوں نے بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6734]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں