🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 955
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 955
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو حَازِمٍ : سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثَلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهِ لَهُ فُلانٌ مَوْلَى فُلانَةَ،" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَعَدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ، ثُمَّ صَعَدَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ سَجَدَ" .
ابو حازم بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز سے بنایا گیا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اب لوگوں میں ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو، یہ نواحی جنگلات کی لکڑی سے بنایا گیا تھا، جسے فلاں شخص نے بنایا تھا، جو فلاں خاتون کا غلام تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے قدموں نیچے اترے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا پھر منبر پر چڑھ گئے، پھر تلاوت کی پھر رکوع کیا پھر الٹے قدموں نیچے اترے پھر سجدہ کیا۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 377، 448، 917، 2094، 2569، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 544، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2142، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 738، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 820، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1080، والدارمي فى «مسنده» برقم: 41، 1293، 1606، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1416، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5310، 5311، 5312، 5779، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23263، 23318، 23335»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں