🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 1085
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1085
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ أَعْيَا فَرَكِبَهَا، فَضَرَبَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الأَرْضِ"، فَقَالَ النَّاسُ: بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَمَا هُمَا ثَمَّ"، ثُمَّ قَالَ:" بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا، فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا، فَاسْتَنَقْذَهَا، فَقَالَ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟"، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ" ، وَمَا هُمَا ثَمَّ ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھے اور ارشاد فرمایا: ایک مرتبہ ایک شخص ایک گائے کو ہانک کر لے جا رہا تھا۔ اسی دوران وہ تھک گیا، تو وہ اس پر سوار ہو گیا اس نے مارا، تو گائے نے کہا: مجھے اس مقصد کے لیے نہیں پیدا کیا گیا ہے، ہمیں تو زمین میں کھیتی باڑی کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تو لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! گائے بھی بات کر سکتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکر اور عمر بھی (اس بات پر ایمان رکھتے ہیں)، حالانکہ یہ دونوں صاحبان اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک مرتبہ ایک شخص کچھ بکریوں میں موجود تھا ان میں سے ایک بکری پر بھیڑیے نے حملہ کیا۔ بکری کا مالک وہاں تک پہنچا اور اس نے اس بھیڑیے سے اسے چھڑا لیا، تو وہ بھیڑیا بولا: درندوں کے مخصوص دن میں اس کا کون رکھوالا ہوگا؟ جب اس کا چرواہا میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا۔ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا بھی بات چیت کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابوبکر اور عمر اس بات پر ایمان رکھتے ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) حالانکہ یہ دونوں صاحبان اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ [مسند الحميدي/جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2324، 3471، 3471، 3663، 3690، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2388، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6485، 6486، 6903، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8057، 8058، 8059، 8060، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3677، 3677 م، 3695، 3695 م، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7468، 8178، 9085»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں