مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1210
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ فَقَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْتَ أَعْلَمُ" , قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک دینار موجود ہے (میں اس کا کیا کروں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے اوپر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کی: میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنی اولاد پر خرچ کرو!“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنی بیوی پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنے خادم پر خرچ کرو!“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس اور بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زیادہ بہتر جانتے ہو گے (کہ اسے کس پر خرچ کیا جائے؟)۔“ سعید نامی راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کر لیتے تھے، تو یہ فرمایا کرتے تھے: تمہارا بچہ کہے گا مجھ پر خرچ کرو، مجھے کس کے سپرد کر رہے ہو، تمہاری بیوی کہے گی: مجھ پر خرچ کرو، ورنہ مجھے طلاق دے دو، تمہارا خادم کہے گا: مجھ پر خرچ کرو یا پھر مجھے فروخت کر دو۔ [مسند الحميدي/بَابٌ جَامِعٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3337، 4233، 4235، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1519، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2534، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2327، 9137، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1691، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15792، 15793، 15835، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7537، 10225، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6616»