🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ النَّهْيِ عَنْ دُخُولِ الْمَسْجِدِ بِرِيحِ الثُّومِ وَتَغْطِيَةِ الْفَمِ فِي الصَّلَاةِ
مسجد میں لہسن کھا کر جانے کی ممانعت اور نماز میں منہ ڈھانپنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرُبْ مَسَاجِدَنَا، يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ"
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس درخت (یعنی لہسن میں سے) کھایا تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے، تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم:563، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1015، وأحمد فى «مسنده» برقم: 429، شركة الحروف نمبر: 27، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 30»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 30
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّّرِ ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " إِذَا رَأَى الْإِنْسَانَ يُغَطي فَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي جَبَذَ الثَّوْبَ عَنْ فِيهِ جَبْذًا شَدِيدًا، حَتَّى يَنْزِعَهُ عَنْ فِيهِ"
حضرت عبدالرحمٰن بن مجبر سے روایت ہے کہ سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب کسی کو دیکھتے تھے کہ منہ اپنا ڈھانپے ہے نماز میں، تو کھینچ لیتے تھے کپڑا زور سے، یہاں تک کہ کھل جاتا اس کا منہ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 30]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 30، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7300، 7379، شركة الحروف نمبر: 28، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 30ب» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں