صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ سُؤَالِ الإِمَامِ الْمُقِرَّ هَلْ أَحْصَنْتَ:
باب: زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟
حدیث نمبر: 6825
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأبِي سَلَمَةَ، أنَّ أبَا هُرَيْرَةَ قَالَ:" أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَنَادَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ يُرِيدُ نَفْسَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَجَاءَ لِشِقِّ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ؟".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاحب آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آواز دی یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ خود اپنے متعلق وہ کہہ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا منہ پھیر لیا۔ لیکن وہ صاحب بھی ہٹ کر اسی طرف کھڑے ہو گئے جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور وہ بھی دوبارہ اس طرف آ گئے جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور اس طرح جب اس نے چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا کیا تم پاگل ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا: جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6825]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عام لوگوں میں سے ایک آدمی آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بآواز بلند پکارا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔“ اس کی مراد خود اپنی ذات تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا، وہ بھی اسی طرف مڑا جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ انور تھا۔ اس نے پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ انور دوسری طرف کر لیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کے اس طرف سے آیا جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک پھیرا تھا، یہاں تک کہ جب اس نے چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا: ”کیا تو پاگل ہے؟“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں، پاگل نہیں ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6825]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6826
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ، جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ.
ابن شہاب نے بیان کیا کہ جنہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی تھی انہوں نے مجھے خبر دی کہ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا تھا جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگنے لگے۔ لیکن ہم نے انہیں حرہ (حرہ مدینہ کی پتھریلی زمین) میں جا لیا اور انہیں رجم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6826]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اسے سنگسار کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں رجم کیا۔ جب اس پر پتھروں کی بارش ہوئی تو بھاگ کھڑا ہوا، لیکن ہم نے اسے مدینہ منورہ کی پتھریلی زمین میں جا لیا اور وہیں اس کو سنگسار کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة