🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ
جو شخص سر اُٹھا لے امام کے پیشتر رکوع یا سجدہ میں اُس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مَلِيحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَخْفِضُهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، فَإِنَّمَا نَاصِيَتُهُ بِيَدِ شَيْطَانٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ جو شخص سر اُٹھا تا ہے یا جھکاتا ہے امام کے پیشتر تو اُس کا ماتھا شیطان کے ہاتھ میں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف،أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3753، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1019، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه البزار فى «مسنده» برقم: 9404، ووأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7223، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 7692، شركة الحروف نمبر: 195، فواد عبدالباقي نمبر: 3 - كِتَابُ الصَّلَاةِ-ح: 57»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 206B
قَالَ مَالِك، فِيمَنْ سَهَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ فِي رُكُوعٍ أَوْ سُجُودٍ: إِنَّ السُّنَّةَ فِي ذَلِكَ، أَنْ يَرْجِعَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، وَلَا يَنْتَظِرُ الْإِمَامَ. وَذَلِكَ خَطَأٌ مِمَّنْ فَعَلَهُ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ"، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَخْفِضُهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، إِنَّمَا نَاصِيَتُهُ بِيَدِ شَيْطَانٍ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص بھول کر امام سے اوّل سر اُٹھا لے رکوع یا سجدہ میں تو سنت یہ ہے کہ پھر رکوع یا سجدہ میں چلا جائے اور امام کے سر اُٹھانے کا انتظار نہ کرے، اور جس شخص نے قصداً ایسا کیا تو اس نے خطا کی، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لئے امام ہوا ہے کہ اس کی پیروی اور تابعداری کی جائے، تو نہ اختلاف کرو اس پر۔ یعنی آگے پیچھے اس سے ارکان ادا نہ کرو، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص سر اُٹھاتا ہے یا جھکاتا ہے قبل امام کے تو ماتھا اس کا شیطان کے ہاتھ میں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 206B]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 195، فواد عبدالباقي نمبر: 3 - كِتَابُ الصَّلَاةِ-ح: 57»