🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ
کلام اللہ بے وضو پڑھنے کی اجازت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَى وُضُوءٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " مَنْ أَفْتَاكَ بِهَذَا أَمُسَيْلِمَةُ؟"
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں بیٹھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے، پس گئے حاجت کو اور پھر آ کر قرآن پڑھنے لگے، ایک شخص نے کہا: آپ کلام اللہ پڑھتے ہیں بغیر وضو کے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھ سے کس نے کہا کہ یہ منع ہے، کیا مسیلمہ نے کہا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْقُرْآنِ/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 424، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 1318، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1110، 1111، شركة الحروف نمبر: 431، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 2»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں