موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ
گائے بیل کی زکوٰہ کا بیان
حدیث نمبر: 673B10
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي هَذَا
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: یہ قول بہت پسند ہے مجھ کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 673B10]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر:، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 24»
حدیث نمبر: 673B11
قَالَ مَالِك فِي الْفَرِيضَةِ تَجِبُ عَلَى الرَّجُلِ فَلَا تُوجَدُ عِنْدَهُ: أَنَّهَا إِنْ كَانَتِ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَلَمْ تُوجَدْ، أُخِذَ مَكَانَهَا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، وَإِنْ كَانَتْ بِنْتَ لَبُونٍ أَوْ حِقَّةً أَوْ جَذَعَةً وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ، كَانَ عَلَى رَبِّ الْإِبِلِ أَنْ يَبْتَاعَهَا لَهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ بِهَا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ يُعْطِيَهُ قِيمَتَهَا
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس قسم کا جانور کسی پر زکوٰۃ میں واجب ہو، پھر اس قسم کا جانور اس کے پاس سے نہ نکلے، مثلاً اگر ایک برس کی اونٹنی واجب ہو اور وہ نہ نکلی تو دو برس کا اونٹ لے لیا جائے، اور جو دو برس یا تین برس یا چار برس کی اونٹنی واجب ہو اور وہ نہ نکلے تو خرید کر کے دیوے، اور قیمت کا دینا میرے نزدیک اچھا نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 673B11]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر:، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 24»
حدیث نمبر: 673B12
وَقَالَ مَالِك فِي الْإِبِلِ النَّوَاضِحِ وَالْبَقَرِ السَّوَانِي وَبَقَرِ الْحَرْثِ: إِنِّي أَرَى أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ إِذَا وَجَبَتْ فِيهِ الصَّدَقَةُ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو اونٹ پانی سینچتے ہیں یا جو بیل چرسہ گھسیٹتے ہیں یا ہل چلاتے ہیں، اگر مقدارِ نصاب کے ہوں تو اُن میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 673B12]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر:، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 24»