🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أُحْصِرَ بِعَدُوٍّ
احصار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q797
عَنْ مَالِكٍ قَالَ: مَنْ حُبِسَ بِعَدُوٍّ، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَإِنَّهُ يَحِلُّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، وَيَنْحَرُ هَدْيَهُ، وَيَحْلِقُ رَأْسَهُ حَيْثُ حُبِسَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص کو احصار ہوا دشمن کے باعث سے، اور وہ اس کی وجہ سے بیت اللہ تک نہ جا سکا، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور اپنی ہدی کو نحر کرے، اور سر منڈوائے جہاں پر اس کو احصار ہوا ہے، اور قضاء اس پر نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: Q797]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 97»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 797
عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ. فَنَحَرُوا الْهَدْيَ، وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ، وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ. وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْيُ، ثُمَّ لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ، وَلَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ، أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا، وَلَا يَعُودُوا لِشَيْءٍ.
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے (جب روکا ان کو کفار نے) تو احرام کھول ڈالا حدیبیہ میں، اور نحر کیا ہدی کا، اور سر منڈوائے اور حلال ہو گئے ہر شے سے قبل طوافِ خانۂ کعبہ، اور قبل پہنچ جانے ہدی کے بیت اللہ کو، پھر ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا ہو کسی کو اپنے اصحاب اور ساتھیوں میں سے دوبارہ قضاء یا اعادہ کرنے کا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 797]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1639، 1640، 1693، 1708، 1806، 1807، 1812، 1813، 4183، 4184، 4185، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1230، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2745، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3998، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2747، 2861، 2935، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3712، 3828، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1935، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8838، 8872، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4566، 4685، والحميدي فى «مسنده» برقم: 695، والطبراني فى «الصغير» برقم: 361، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 98ق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 798
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ: إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ"، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ نَفَذَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا، وَرَأَى ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَى
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نکلے مکہ کی طرف عمرہ کی نیت سے جس سال فساد درپیش تھا (یعنی حجاج بن یوسف لڑنے کو آیا تھا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے جو حاکم تھے مکہ کے) تو کہا: اگر مجھے روکا جائے بیت اللہ جانے سے تو کروں گا جیسا کیا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جب روکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے)، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احرام باندھا تھا عمرہ کا اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال میں احرام باندھا تھا عمرہ کا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سوچا تو یہ کہا کہ عمرہ اور حج دونوں کا حکم احصار کی حالت میں یکساں ہے۔ پھر متوجہ ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف اور کہا کہ حج اور عمرہ کا حال یکساں ہے۔ میں نے تم کو گواہ کیا کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی واجب کر لیا عمرہ کے ساتھ۔ پھر چلے گئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ یہاں تک کہ آئے بیت اللہ میں اور ایک طواف کیا اور اس کو کافی سمجھا اور نحر کیا ہدی کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 798]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1639، 1640، 1693، 1708، 1806، 1807، 1812، 1813، 4183، 4184، 4185، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1230، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2745، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3998، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2747، 2861، 2935، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3712، 3828، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1935، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8838، 8872، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4566، 4685، والحميدي فى «مسنده» برقم: 695، والطبراني فى «الصغير» برقم: 361، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 99»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 798B1
قَالَ مَالِك: فَهَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ أُحْصِرَ بِعَدُوٍّ، كَمَا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ۱؎
فَأَمَّا مَنْ أُحْصِرَ بِغَيْرِ عَدُوٍّ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ دُونَ الْبَيْتِ ۲؎
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک جس کو دشمن کی وجہ سے احصار ہو اس کا یہی حکم ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب نے کیا۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو سوائے دشمن کے اور کسی وجہ سے رُک جائے وہ حلال نہ ہوگا، بدون بیت اللہ جاتے ہوئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 798B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 99»