صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ إِذَا قَتَلَ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَصًا:
باب: جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا۔
حدیث نمبر: 6877
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَأَعَادَ عَلَيْهَا، قَالَ: فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ: فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ".
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ہشام بن زید بن انس نے، ان سے ان کے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہر نکلی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے مار دیا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر (انکار کے لیے) اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکا لیا (اقرار کرتے ہوئے جھکا لیا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6877]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مدینہ طیبہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیورات پہنے باہر نکلی، ایک یہودی نے اسے پتھر مارا۔ اس میں آخری سانس تھی کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟“ لڑکی نے (انکار کرتے ہوئے) اپنا سر اٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا: ”کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟“ لڑکی نے پھر (انکار کرتے ہوئے) اپنا سر اوپر کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا: ”کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟“ تو اس نے (ہاں کرتے ہوئے) اپنا سر نیچے کر لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (یہودی) کو بلایا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6877]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة