صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَنْ أَقَادَ بِالْحَجَرِ:
باب: پتھروں سے قصاص لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 6879
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ:" أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ قَالَ: الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَرَيْنِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مار ڈالا تھا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دو پتھروں میں کچل کر قتل کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6879]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے کسی لڑکی کو اس کے زیورات کے لالچ میں آ کر پتھر سے قتل کر دیا۔ وہ لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں کچھ جان باقی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟“ اس نے سر کے اشارے سے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا تو اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارے سے اقرار کیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (قاتل یہودی) کو دو پتھروں سے کچل کر قتل کروا دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6879]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة