🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ الْقِصَاصِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي الْجِرَاحَاتِ:
باب: مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6886
وَقَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ: يُقْتَلُ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ، وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ: تُقَادُ الْمَرْأَةُ مِنَ الرَّجُلِ فِي كُلِّ عَمْدٍ يَبْلُغُ نَفْسَهُ فَمَا دُونَهَا مِنَ الْجِرَاحِ، وَبِهِ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَإِبْرَاهِيمُ وَأَبُو الزِّنَادِ، عَنْ أَصْحَابِهِ، وَجَرَحَتْ أُخْتُ الرُّبَيِّعِ إِنْسَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقِصَاصُ.
اہل علم نے کہا ہے کہ مرد کو عورت کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عورت سے مرد کے قتل مثل عمد یا اس سے کم دوسرے زخموں کا قصاص لیا جائے۔ یہی قول عمر بن عبدالعزیز، ابراہیم، ابوالزناد کا اپنے اساتذہ سے منقول ہے۔ اور ربیع کی بہن نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو زخمی کر دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: Q6886]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6886
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَدَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: لَا تُلِدُّونِي، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ".
ہم سے عمر بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں (مرض الوفات کے موقع پر) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6886]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں آپ کے منہ میں آپ کی مرضی کے خلاف دوائی ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے حلق میں دوائی نہ ڈالو لیکن ہم نے خیال کیا کہ آپ بیمار ہونے کی وجہ سے دوائی کو پسند نہیں کر رہے۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: تم جتنے لوگ گھر میں موجود ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے، سوائے عباس رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ اس وقت تمہارے ساتھ شامل نہیں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6886]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں